یورپی یونین سربراہی اجلاس: ہنگری اور سلوواکیہ نے یوکرین امداد یرغمال بنا لی

IMG 20260320 WA0569


برسلز میں جاری یورپی یونین کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں اس وقت شدید تعطل پیدا ہو گیا جب ہنگری اور سلوواکیہ نے یوکرین کے لیے ۹۰ ارب یورو کے قرض پیکج کو مسدود کر دیا اور روسی تیل کی فراہمی بحال کرنے کو اپنی بنیادی شرط قرار دے دیا۔
یہ بحران ۲۷ جنوری ۲۰۲۶ کو اس وقت شروع ہوا جب روسی ڈرون حملے نے مغربی یوکرین کے "بروڈی آئل ہب” کے قریب "دروژبا” پائپ لائن کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا، جس سے ہنگری اور سلوواکیہ کو تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو گئی۔ 
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر تیل کی فراہمی روک رہے ہیں۔ اوربان نے اعلان کیا: "جب تک تیل نہیں، تب تک پیسہ نہیں۔” 
اجلاس کے اختتام پر ہنگری اور سلوواکیہ نے یوکرین کے لیے ۹۰ ارب یورو کا قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کا ۲۰واں پیکج دونوں روک لیے، اور دروژبا پائپ لائن کی بحالی کو ویٹو ختم کرنے کی شرط قرار دیا۔ 
اس بحران کو حل کرنے کے لیے یورپی یونین نے یوکرین کو مالی امداد اور ماہرین کا ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا تاکہ پائپ لائن کا معائنہ اور مرمت کی جا سکے۔ 
یوکرین نے یورپی یونین کی مالی و تکنیکی معاونت کی پیشکش قبول کر لی ہے اور صدر زیلنسکی نے تقریباً ڈیڑھ ماہ میں تیل کی فراہمی بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ 
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پس منظر میں توانائی کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے اور خام تیل کی قیمت ۱۰۷ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ماہرین کا خدشہ ہے کہ قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ 

متعلقہ پوسٹ