برسلز میں جاری یورپی یونین کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں اس وقت شدید تعطل پیدا ہو گیا جب ہنگری اور سلوواکیہ نے یوکرین کے لیے ۹۰ ارب یورو کے قرض پیکج کو مسدود کر دیا اور روسی تیل کی فراہمی بحال کرنے کو اپنی بنیادی شرط قرار دے دیا۔
یہ بحران ۲۷ جنوری ۲۰۲۶ کو اس وقت شروع ہوا جب روسی ڈرون حملے نے مغربی یوکرین کے "بروڈی آئل ہب” کے قریب "دروژبا” پائپ لائن کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا، جس سے ہنگری اور سلوواکیہ کو تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو گئی۔
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر تیل کی فراہمی روک رہے ہیں۔ اوربان نے اعلان کیا: "جب تک تیل نہیں، تب تک پیسہ نہیں۔”
اجلاس کے اختتام پر ہنگری اور سلوواکیہ نے یوکرین کے لیے ۹۰ ارب یورو کا قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کا ۲۰واں پیکج دونوں روک لیے، اور دروژبا پائپ لائن کی بحالی کو ویٹو ختم کرنے کی شرط قرار دیا۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے یورپی یونین نے یوکرین کو مالی امداد اور ماہرین کا ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا تاکہ پائپ لائن کا معائنہ اور مرمت کی جا سکے۔
یوکرین نے یورپی یونین کی مالی و تکنیکی معاونت کی پیشکش قبول کر لی ہے اور صدر زیلنسکی نے تقریباً ڈیڑھ ماہ میں تیل کی فراہمی بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پس منظر میں توانائی کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے اور خام تیل کی قیمت ۱۰۷ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ماہرین کا خدشہ ہے کہ قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

