واشنگٹن / مشرقِ وسطیٰ | ۲۰ مارچ ۲۰۲۶
امریکی خبری ادارے بلوم برگ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے سنگین فوجی نقصانات کا انکشاف کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا کے کم از کم ۱۶ فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں ۱۰ ریپر اسٹرائیک ڈرون بھی شامل ہیں جو دشمن کی فائرنگ سے تباہ ہوئے، جبکہ مزید ۶ طیارے حملوں یا حادثات میں بری طرح تباہ ہوئے۔
سب سے سنگین نقصان حادثات کی صورت میں سامنے آیا: کویت میں تین امریکی ایف-۱۵ جنگی طیارے اپنی ہی فورسز کی فائرنگ سے تباہ ہوئے، جبکہ ایک کے سی-۱۳۵ ٹینکر طیارہ ری فیولنگ آپریشن کے دوران تباہ ہو گیا اور اس کے تمام چھ عملہ ارکان ہلاک ہو گئے۔
واقعات کی تفصیل کے مطابق یہ کے سی-۱۳۵ حادثہ ۱۲ مارچ کو مغربی عراق کی فضاؤں میں ہوا جب یہ طیارہ ایک دوسرے کے سی-۱۳۵ سے فضائی ٹکر کا شکار ہوا۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ریپر ڈرون طیارے ایرانی میزائلوں سے مار گرائے گئے یا زمین پر دشمن کے حملوں سے تباہ کیے گئے۔ یہ ڈرون جاسوسی کے ساتھ ساتھ ہیل فائر میزائل سے مسلح ہوتے ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ہر ریپر ڈرون کی مالیت تقریباً ۳۰ سے ۳۲ ملین ڈالر ہے، یعنی صرف ریپر بیڑے کا کل تخمینہ نقصان ۳۳۰ ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
سیاسی محاذ پر بھی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے انسداد دہشتگردی کے سربراہ جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت میں استعفیٰ دے دیا، وہ اس جنگ کے خلاف علناً مستعفی ہونے والے سب سے بڑے عہدیدار بن گئے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ایران سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔

