مذاکرات نہیں تو زمینی قبضہ؛ امریکہ کیا تیاری کر رہا ہے باخبر ویب سائٹ کی رپورٹ

news 1774530084 3435



news 1774530084 3435

(ویب ڈیسک) امریکہ ایران کے پاسداران انقلاب کو ‘حتمی دھچکا’ لگانے کے آپشنز تیار کر رہا ہے۔  ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ زمینی فوج کا استعمال کر سکتا ہے –

امریکہ کی ویب سائٹ ایکسیوس Axios  نے آج رپورٹ کیا ہے کہ  دو امریکی حکام اور دو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ  امریکہ ایران کو "آخری دھچکا” دینے کے لیے اختیارات پر کام کر رہا ہے ۔ امریکہ  ایرانی سرزمین پر امریکی زمینی فوجیوں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی بمباری کی کوشش کر سکتا ہے۔ امریکہ تین چار ایرانی جزیروں پر مکمل قبضہ بھی کر سکتا ہے۔

ایکسیوسAxios کی رپورٹ کے مطابق، اگر ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوتیں اور ایرانی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی  روکنے کے لئے  دھمکیاں دیتے رہتے ہیں، تو امریکہ ایک حتمی دھچکا لگا سکتا ہے جس کا دوہرا مقصد ہوگا – تہران کے ساتھ "مستقبل کے مذاکرات”  میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانا، یا  کم از کم یہ کہ  صدر ڈونلڈ ٹرمپ  فتح کی تصویر کے ساتھ یکطرفہ طور پر جنگ ختم کرنے  کے قابل ہو جائیں۔

امریکہ کے سرکاری حکام نے Axios کو بتایا کہ چار آپشنز زیر بحث ہیں۔

سب سے پہلے تیل کی برآمد کے لیے ایران کے اہم مرکز، جزیرہ خرگ پر قبضہ یا ناکہ بندی کرنا شامل ہے۔

دوسرا آپشن یہ ہو گا کہ آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرہ کو لے  لیا جائے، جس میں ایرانی اڈے اور ریڈار ہیں جو ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں، نیز چھوٹی کشتیاں یہاں چھپائی جاتی  ہیں  جو  آبنائے ہرمز میں آنے والے کمرشل جہازوں پر حملہ کر تی ہیں۔

تیسرا  آپشن  مشرقی خلیج فارس میں ابو موسیٰ جزیرے پر حملہ کرنا ہوگا، جو ایران کو خلیج سے نکلنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ یہ جزیرہ – اور قریبی گریٹر اور لیزر ٹنب جزیرے – ایران کے قبضے میں ہیں لیکن ان جزائر پر متحدہ عرب امارات کا ملکیت کا دعویٰ ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کا ایک اہم اتحادی ہے۔

چوتھا آپشن یہ ہے  امریکہ ایرانی تیل برآمد کرنے والے بحری جہازوں کو روک سکتا ہے یا ان کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  امریکہ ایران میں فوج بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کا انکشاف

Axios کے مطابق، امریکی فوجیوں کے لیے ایران کے انتہائی افزودہ کی جاچکی (972 پاؤنڈ) یورینیم پر قبضہ کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ  ایران کے اندر تباہ شدہ جوہری تنصیبات کے ملبے کے نیچے کہیں سلنڈروں میں محفوظ پڑی ہے ۔ یورینئیم کو  تباہ شدہ لیباریٹریوں کے اندر سے تلاش کر کے، اٹھا کر لانے کے خطرناک آپشن کے  متبادل کے طور پر، امریکہ صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایران مواد تک نہیں پہنچ سکتا، ہوا سے نیوکلئیر تنصیبات پر مزید  بمباری کر سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ٹرمپ نے کسی بھی منصوبے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ کی ایک نیوز آؤٹ لیٹ یہ شائع کر چکی ہے کہ پینٹاگون ایران کے اندر انتہائی تربیت یافتہ فوجی بھیجنے کے منصوبہ کی تیاری کر رہا ہے۔  یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تربیت یافتہ فوجی صرف نطنز اور اس جیسی نیوکلئیر تنصیبات کے اندر جا کر یورینئیم تلاش کرنے کے لئے بھیجے جائیں گے یا یہ زیادہ وسیع علاقہ پر قبضہ کرنے کی ابتدا کرنے کے لئے  بیس بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ابوظہبی پر ایرانی میزائل حملہ، پاکستانی سمیت تین سویلین افراد مارے گئے، تین زخمی





Source link

متعلقہ پوسٹ