نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے ہچکچاہٹ کے باوجود ریٹائرمنٹ چھوڑ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ وہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے پر وزیر اعظم بنی تھیں۔
وہ اپنی اس ذمہ داری سے اس احساس کے ساتھ رخصت ہوئیں کہ انہوں نے تین کروڑ آبادی والے ہمالیائی ملک کو 2006 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد کے سب سے ہنگامہ خیز ادوار میں سے ایک میں رہنمائی فراہم کی۔
بالوں کو جوڑے میں سمیٹے اور موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے سے دیکھتے ہوئے، 73 سالہ کارکی نے قوم سے الوداعی خطاب میں کہا: ‘جب میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی… تو میں خوف اور غیر یقینی کا شکار تھی۔
‘لیکن میں یہاں اس اعتماد کے ساتھ آئی کہ میں اس وقت امید کا کوئی چراغ روشن کر سکتی ہوں جب ملک بحران میں تھا۔’
انہوں نے ایک ایسے ملک کی قیادت کی جو اندرونی طور پر شدید اختلافات کا شکار تھا، اور عبوری رہنما کے طور پر اس وقت عہدہ سنبھالا جب وزیر اعظم کا دفتر تباہ حال تھا۔
پارلیمان اور متعدد سرکاری عمارتوں کی طرح اسے بھی ستمبر 2025 کے تشدد کے دوران نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس میں 77 افراد مارے گئے تھے۔
کارکی بارہا کہتی رہیں کہ وہ یہ عہدہ نہیں چاہتی تھیں — ان کا نام جنریشن زی کی احتجاجی تحریک نے جس نے آن لائن پلیٹ فارم ڈسکارڈ کے ذریعے احتجاج شروع کیا پیش کیا تھا۔
تاہم انہیں منتخب کیا گیا اور وہ نیپال کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں۔
انہوں نے جمعرات کی شب کہا: ‘تبدیلی کے لیے کام کرنے والی نوجوان نسل کی درخواست پر میں نے انتخابات کی تکمیل کے مقصد سے یہ ذمہ داری قبول کی۔
‘اب میں کچھ اطمینان اور بہت زیادہ امید کے ساتھ رخصت کی اجازت چاہتی ہوں۔’
|
نیپال کے ریپر سے سیاست دان بننے والے بالیندرا شاہ نے جمعہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ 35 سالہ اصلاح پسند رہنما اور ان کی جماعت راشٹریہ سوتنترا پارٹی نے اس ماہ ہونے والے انتخابات میں نوجوانوں کی قیادت میں سیاسی تبدیلی کے نعرے پر واضح برتری حاصل کی۔ حلف برداری کے موقع پر سیاہ لباس، بشمول اپنی مخصوص سیاہ عینک پہنے ہوئے شاہ نے کہا: ‘میں، بالیندرا شاہ، ملک اور عوام کے نام پر عہد کرتا ہوں کہ میں آئین کا وفادار رہوں گا۔’ تقریب میں موجود افراد نے ان کے عہدہ سنبھالتے ہی خوشی کا اظہار کیا، نعرے لگائے اور ان کا نام پکار کر خیر مقدم کیا۔ |
‘بہترین کارکردگی’
ان کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک تشدد کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام تھا، جس نے سفارش کی کہ ان کے پیش رو، چار بار وزیر اعظم رہنے والے کے پی شرما اولی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔
35 سالہ ریپر بالیندرا شاہ نے، جو نئے وزیر اعظم بنے ہیں، 5 مارچ کو ووٹ دینے کے بعد کارکی کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘آپ کی قیادت میں جمہوریت کامیاب ہوئی۔’
کٹھمنڈو پوسٹ نے ووٹنگ کے بعد اپنے اداریے میں اسے ‘بہترین کارکردگی’ قرار دیا۔
اداریے میں کہا گیا: ‘اتنے کم وقت میں سڑکوں کے انتشار سے بیلٹ باکس کے نظم تک پہنچنا ایک ایسی کامیابی ہے جو اعلیٰ ترین تعریف کی مستحق ہے۔’
1952 میں مشرقی نیپال کے صنعتی شہر بیرات نگر میں پیدا ہونے والی کارکی نے انڈیا میں سیاسیات اور کٹھمنڈو میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔
وہ ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھیں جہاں خواتین شاذ و نادر ہی قانونی پیشے میں آتی تھیں۔
انہوں نے 1979 میں وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی ایک نڈر وکیل کے طور پر شہرت حاصل کی، اکثر وہ ایسے مقدمات لیتی تھیں جن سے دوسرے گریز کرتے تھے۔
‘بہادر’
2016 سے 2017 تک بطور چیف جسٹس ان کی مدت مختصر مگر اہم رہی — انہوں نے صنفی تصورات کو چیلنج کیا اور بدعنوانی کے معاملے پر سیاست دانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
سابق سپریم کورٹ جج انیل کمار سنہا نے، جو کارکی کی کابینہ کا بھی حصہ رہے، کہا: ‘ان کی دیانت داری کبھی مشکوک نہیں رہی، اور وہ ایسی شخصیت نہیں ہیں جنہیں آسانی سے دباؤ میں لایا جا سکے یا متاثر کیا جا سکے۔
‘وہ بہادر ہیں اور دباؤ سے مرعوب نہیں ہوتیں۔’
2012 میں کارکی ان دو ججوں میں شامل تھیں جنہوں نے بدعنوانی کے جرم میں ایک حاضر سروس وزیر کو قید کی سزا سنائی — یہ نیپال میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی اقدام تھا۔
2017 میں حکومت نے انہیں چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی جب انہوں نے پولیس سربراہ کے لیے حکومتی نامزدگی کو مسترد کر دیا۔
اقوام متحدہ نے اس اقدام کو ‘سیاسی محرکات پر مبنی’ قرار دیا اور یہ کوشش ناکام ہو گئی، جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی۔
نیپال 2006 میں ایک طویل اور خونی ماؤ نواز بغاوت کے خاتمے کے بعد ابھرا اور 2008 میں یہاں 240 سالہ ہندو بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وفاقی ریاست میں تبدیلی سیاسی کشمکش کا شکار رہی، اور مختلف حکومتوں نے خانہ جنگی کے دوران ہونے والی زیادتیوں پر انصاف میں تاخیر کی۔
تاہم کارکی کے دور میں 2017 میں ایک عدالت نے ایک نوعمر لڑکی کے قتل پر تین فوجیوں کو 20 سال قید کی سزا سنائی، جو جنگی جرائم میں صرف دوسری سزا تھی۔
وہ نیپال کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، لیکن پہلی خاتون رہنما نہیں — بدیا دیوی بھنڈاری 2015 سے 2023 تک دو ادوار کے لیے صدر رہ چکی ہیں، جو زیادہ تر رسمی عہدہ تھا۔
کارکی نے اپنے الوداعی بیان میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نوجوان سیاست دان کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت بدعنوانی کے خاتمے، گڈ گورننس کو یقینی بنانے، ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی اور سماجی انصاف فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے جنریشن زی تحریک کی امنگوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کچھ بنیاد تیار کی ہے۔
کارکی نے کہا کہ حکومت نے 8 اور 9 ستمبر 2025 کے جنریشن زی مظاہروں کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ، تشدد اور لوٹ مار کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’آئندہ حکومت رپورٹ کے مکمل مطالعہ کے بعد سفارشات اور تجاویز کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے گی۔‘

