دبئی/لندن — متحدہ عرب امارات نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے الزام میں 70 برطانوی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد کو 10 سال تک قید اور 2 لاکھ پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی دو برطانوی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق گرفتار شدگان میں سیاح، غیر ملکی مقیم افراد اور جہازوں کا عملہ شامل ہے جنہیں بھیڑ بھاڑ والی پولیس سیلوں میں رکھا جا رہا ہے اور بعض کو نیند، خوراک اور دوائیں تک نہیں دی جا رہیں۔
اماراتی قانون کے تحت ایسی تصاویر یا ویڈیوز وصول کرنا بھی جرم ہے جو عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ سائبر کرائم قوانین کے تحت کم از کم دو سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔
وکالتی ادارے "ڈیٹینڈ ان دبئی” کی سربراہ رضا سٹرلنگ نے کہا کہ یو اے ای کے سائبر قوانین کے تحت نہ صرف ویڈیو پوسٹ کرنے والا بلکہ اسے شیئر یا کمنٹ کرنے والا بھی مجرم قرار پا سکتا ہے، اس طرح ایک ویڈیو کئی افراد کی گرفتاری کا سبب بن سکتی ہے۔
اماراتی اٹارنی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی جگہوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا قومی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ برطانوی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ یو اے ای کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ، قید یا ملک بدری ہو سکتی ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق 28 فروری 2026 سے اب تک ایران نے 398 بیلسٹک میزائل، 1872 ڈرون اور 15 کروز میزائل داغے ہیں جن میں سے اکثر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا، تاہم ملبے سے 11 افراد ہلاک اور 178 زخمی ہو چکے ہیں۔

