پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف اسرائیلی سزائے موت کے قانون کی سخت مذمت کر دی

IMG 20260402 WA20641


اسلام آباد/استنبول پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی طرف سے منظور کیے گئے متنازعہ قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔
اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قیدیوں پر سزائے موت کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، جو فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے خلاف مخصوص طور پر نافذ العمل ہوگا۔
مشترکہ اعلامیہ میں وزرائے خارجہ نے اس قانون سازی کو "خطرناک اضافہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدام علاقائی استحکام کو کمزور کرے گا۔
بیان میں کہا گیا: "یہ قانون سازی ایک خطرناک اضافہ ہے، خاص طور پر فلسطینی قیدیوں کے خلاف اس کے امتیازی اطلاق کے پیش نظر۔ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔”
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کی غیر قانونی اقدامات کے خلاف فوری اور موثر اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، دو ریاستی حل اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ اعلامیہ حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا، جہاں اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ