مظفرآباد) — آزاد کشمیر کی سیاست میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے موقف کے جواب میں مہاجرین نے باقاعدہ مہاجر ایکشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
مہاجر رہنما اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اسلم نادر سلہری کی قیادت میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سلہری نے واضح کیا ہے کہ وہ سب سے پہلے مہاجر ہیں اور مہاجرین کے حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مہاجرین کے حق نمائندگی کے لیے متحد ہو جائیں۔
اسلم نادر سلہری نے کہا کہ "مہاجرین کی نشستوں پر حملہ دراصل کشمیر کاز پر حملہ ہے۔ لاکھوں مہاجرین نے گھر بار، زمینیں اور کاروبار قربان کر کے پاکستان کا رخ کیا، اب ان کی شناخت اور نمائندگی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کی مناسب نمائندگی کے بغیر آزاد کشمیر اسمبلی کی آئینی، اخلاقی اور سیاسی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے اور عالمی سطح پر بھی اسے حقیقی نمائندہ ادارہ نہیں مانا جائے گا۔
مہاجرین کا موقف:
مہاجرین کی نشستوں میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے، کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ملک بھر کے مہاجرین ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔
اگر حقوق سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
عوامی ایکشن کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ چند عناصر نفرت اور تقسیم کی سیاست کے ذریعے مہاجرین اور مقامی کشمیریوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر ایکشن کمیٹی کے قیام سے آزاد کشمیر کی سیاست میں نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

