لندن
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اہم ٹیسٹ سیریز سے عین پہلے تیز گیند باز جوفرا آرچر کو آئی پی ایل جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور ای سی بی کے درمیان کچھ معاملات طے پائے ہیں، جس کی وجہ سے بعض کھلاڑیوں کو آئی پی ایل جاری رکھنے کی اجازت ملی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی سینٹرل کنٹریکٹڈ کھلاڑی فرنچائز کرکٹ کو قومی فریضے پر ترجیح دے سکتا ہے؟ وان کا کہنا تھا کہ ای سی بی نے برسوں جوفرا آرچر کو سینٹرل کنٹریکٹ کے ذریعے سہارا دیا، اس لیے قومی ڈیوٹی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
مائیکل وان نے کہا کہ فرنچائز کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے مالی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے بہت فائدہ مند ہے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ کو کسی ڈومیسٹک لیگ کے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔ انہوں نے ای سی بی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر بورڈ چاہتا ہے کہ کھلاڑی آئی پی ایل کھیلیں، تو شیڈول اس طرح ترتیب دیا جائے کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے ٹکراؤ نہ ہو۔
واضح رہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ۴ جون سے شروع ہوگا، اور آرچر کی دستیابی ابھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

