گے
واشنگٹن —
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری تنازع کا جلد از جلد پُرامن حل چاہتا ہے، تاہم تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس میں سالانہ کانگریس پکنک سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران پر ایک بڑا حملہ آخری لمحے میں روک دیا گیا تاکہ مذاکرات کی راہ کھلی رہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوبارہ حملے کے حکم سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے بعد ۸؍ اپریل سے عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو فیصلے کیلئے اگلے چند دنوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر نئے حملے کو مؤخر کیا گیا کیونکہ خطے کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے جوابی بیان میں خبردار کیا کہ نئے امریکی حملے کی صورت میں ایران متعدد محاذ کھول کر بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ٹرمپ دھمکیوں کو امن کے مواقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
امریکہ نے مذاکرات کیلئے پانچ نکات پیش کیے ہیں جن میں ایران کو صرف ایک ایٹمی تنصیب تک محدود رکھنے اور افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایرانی مؤقف امریکہ تک پہنچایا گیا ہے جسے قطر نے بھی سراہا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ ۱۷؍ مئی کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب گرنے والے تین مسلح ڈرونز عراقی سرزمین سے روانہ ہوئے تھے، تاہم ایرانی ملوث ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا گیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی فائبر آپٹک کیبلز پر کنٹرول کی دھمکی بھی دی ہے۔

