اسلام آباد — وفاقی بجٹ 5 جون 2026 کو پیش کیے جانے کا امکان ہے اور تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باعث حکومت اس بار مالیاتی ڈسپلن سے ہٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ پر بجٹ کے اثرات ملے جلے رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے 15 ہزار 300 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے جو گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے زراعت پر ٹیکس بڑھانے اور سروسز پر جی ایس ٹی کا دائرہ وسیع کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
گزشتہ چار سالوں کی طرح اس بار بھی بجٹ کا بنیادی محور پرائمری سرپلس برقرار رکھنا اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو جی ڈی پی گروتھ تین سے ساڑھے تین فیصد تک رہ سکتی ہے۔ تاہم حکومت کے لیے اصل چیلنج آئی ایم ایف کی شرائط اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

