لندن — برطانیہ میں اقتدار کی ایک اور بڑی تبدیلی رونما ہو گئی ہے۔ پیر کے روز کیئر اسٹارمر نے بکنگھم پیلس جا کر کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا، جس کے بعد بادشاہ نے اینڈی برنہم کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی اور وہ باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم بن گئے۔
استعفیٰ پیش کرنے سے قبل کیئر اسٹارمر نے ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنی آخری تقریر میں کہا: "میرا کام مکمل ہو گیا ہے۔” انہوں نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے لیبر پارٹی کو ۲۰۱۹ء کی تاریخی شکست کے بعد دوبارہ منظم کیا اور ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں واضح کامیابی دلائی۔
واضح رہے کہ اسٹارمر نے گزشتہ ماہ لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ، مقامی انتخابات میں خراب کارکردگی اور عوامی مقبولیت میں مسلسل کمی کے باعث ان پر استعفیٰ کے لیے زور دیا جا رہا تھا۔ ان کی حکومت کو معاشی مشکلات، غیر مقبول فلاحی اصلاحات اور واشنگٹن میں برطانوی سفیر کے طور پر پیٹر مینڈیلسن کی تقرری پر بھی سخت تنقید کا سامنا رہا۔
۵۶ سالہ اینڈی برنہم، جو قبل ازیں گریٹر مانچسٹر کے میئر رہ چکے ہیں، گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ وہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ دوبارہ ہاؤس آف کامنز میں واپس آئے تھے، جس نے انہیں قیادت کے لیے درکار پارلیمانی اہلیت دلائی۔
وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنی پہلی تقریر میں اینڈی برنہم نے عوامی اعتماد بحال کرنے، معاشی بحالی، گھریلو اخراجات میں کمی، عوامی خدمات میں اصلاحات اور اختیارات کو ویسٹ منسٹر سے ملک کے شہروں اور علاقوں تک منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نئے وزیرِ اعظم کو سست معاشی ترقی، دباؤ کا شکار عوامی خدمات، بڑھتی مہنگائی اور ریفارم یو کے کی مقبولیت جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

