بھارتیہ گیان پرمپرا سمیلن میں وائس چانسلر نے دروپدی کو ’پہلی فیمنسٹ‘ بتایا

772547374 1788470038829601 642785320691051979 n


بی ایچ یو میں بھارتیہ گیان پرمپرا کے موضوع پر منعقد بین الاقوامی کانفرنس کے دوران جے این یو کی وائس چانسلر شانتی شری دھولی پڑی پنڈت نے دروپدی کو ’پہلی فیمنسٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ جے این یو کے مؤرخین نے حقائق اور ان کی تشریح کی ترتیب الٹ دی ہے۔ انہوں نے جے این یو کو ’بھکاری‘ قرار دیتے ہوئے وہاں بابا وینکٹیشور کا مندر لانے کی بات کہی، تاکہ یونیورسٹی کے لیے زیادہ فنڈاکٹھا کیا جا سکے۔

772547374 1788470038829601 642785320691051979 n

تصویر بہ شکریہ: بی ایچ یو/فیس بک

نئی دہلی:’میں یہ کہنے والے سےمتفق نہیں ہوں کہ فیمنزم سیمون دی بووا سے شروع ہوا۔ … دروپدی پہلی فیمنسٹ ہیں۔‘

یہ بیان دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی وائس چانسلر پروفیسر شانتی شری دھولی پڑی پنڈت کا ہے۔ انہوں نے یہ بات سوموار، 10 اگست کو بی ایچ یو میں شروع ہوئے سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

دروپدی کو ’پہلی فیمنسٹ‘ قرار دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے جے این یو کو ’بھکاری‘ اور جے این یو کے مؤرخین کو ’حقائق اور تشریح کی ترتیب الٹ دینے والا‘ قرار دیا۔

بتادیں کہ اس کانفرنس کا انعقاد بی ایچ یو کے پنڈت دین دیال اپادھیائے چیئر کی جانب سے ’بھارتیہ گیان پرمپرا ‘ کے تحت کیا گیا تھا۔

بھارتیہ گیان پرمپرا کے موضوع پر منعقد اس ’بین الاقوامی کانفرنس‘ کے پہلے دن ہندو سنت متھلیش نندنی شرن کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

سیمون دی بووا سے فیمنزم شروع نہیں ہوا، دروپدی پہلی فیمنسٹ

اپنے خطاب میں  ہندوستان کی علمی روایت میں خواتین کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے جے این یو کی وائس چانسلر نے کہا کہ ہندوستانی فیمنزم کو مغربی فیمنسٹ کے نظریے کی بنیاد پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا،’میں یہ کہنے والے کسی شخص سے متفق نہیں ہوں کہ فیمنزم سیمون دی بوواسے شروع ہوا۔ میں کہوں گی کہ ہندوستانی فیمنزم کا پدرشاہی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اس کے بعد انہوں نے مہابھارت کی دروپدی کو ’پہلی فیمنسٹ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا،’دروپدی پہلی فیمنسٹ ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر سے جو سوال پوچھے، انہیں دیکھیے۔ آج بھی شاید کوئی ایسے سوال نہیں پوچھے گا۔‘

انہوں نے ہندوستانی روایت میں دیوی پوجا کا ذکر کرتے ہوئے چامُنڈیشوری اور مدورئی میناکشی جیسی دیویوں کی مثالیں دیں۔ انہوں  نے کہا کہ ان روایات میں دیوی کسی کی اجازت کے بغیر وردان دے سکتی ہے، شراپ دے سکتی ہے اور فیصلے کر سکتی ہے۔

جے این یو بھکاری ہے، یہاں بابا وینکٹیشور کا مندر لے آؤ

اپنے خطاب میں وائس چانسلر نے مدن موہن مالویہ کو جدید ہندوستانی تعلیم کا ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا،’انہوں نے کہا تھا کہ جہاں سرسوتی رہتی ہیں، وہاں تحقیق کے لیے دولت بھی چاہیے۔ مہالکشمی آئیں گی، تب ہی آپ درگا بنیں گے۔ انہیں جدید ہندوستانی تعلیم کے لیے ایک ماڈل بنایا جانا چاہیے۔ جہاں جہاں آپ یونیورسٹی شروع کرنا چاہتے ہیں، وہاں مالویہ جی کے ماڈل کو دیکھا جانا چاہیے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے لیے آمدنی کے ذرائع کیسے پیدا کیے۔‘

وائس چانسلر نے مزید کہا،

آپ کے وشوناتھ مندر کے بعد میں نے جے این یو سے کہا تھا کہ کیوں کہ ہم بھکاری ہیں، اس لیے بابا وینکٹیشور کا مندر یہاں لے آؤ۔ میں آندھرا سے ہوں، اس لیے اس سے بہت پیسہ آئے گا۔

ہندوستانی رائٹ ونگ یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز، اشاعتی اداروں اور اکیڈمک اداروں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا،’بدقسمتی سے، بائیں بازو نے یونیورسٹیوں، رسائل وجرائد، اشاعتی اداروں، ریسرچ نیٹ ورک اور نظریاتی اسکولوں کے ذریعے طویل عرصے میں ایک اکیڈمک نظام تیار کیا۔ اس کے برعکس دائیں بازو نے ادارہ سازی میں عموماً اتنی سرمایہ کاری نہیں کی۔‘

انہوں نے مزید کہا،

دائیں بازو کا بہت سا فکری کام آج بھی ردعمل، فوری نوعیت اور واقعات پر مبنی ہے، جبکہ اسے مسلسل ترقی کرنے والے نظریے اور تحقیق پر مبنی ہونا چاہیے۔ پائیدار نظریات کے لیے مسلسل تحقیق، پیئر ریویو، آرکائیو، ترجمہ، تحقیقی مراکز اور ڈاکٹریٹ کی سطح کی تعلیم ضروری ہے۔

جے این یو کے مؤرخین نے تاریخ کی تعریف ہی الٹ دی

جے این یو کی وائس چانسلر نے اپنی ہی یونیورسٹی کے مؤرخین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں حقائق اہم ہوتے ہیں، جبکہ ان کی تشریح مختلف ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا،’حقائق مقدس ہوتے ہیں، تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہمارے جے این یو کے مؤرخین نے اسے الٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشریح مقدس ہے اور حقائق تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ ‘

جے این یو کے بارے میں انہوں نے مزید کہا،’وہ یونیورسٹی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر سکتی اور نہ ہی ترقی کر سکتی ہے جہاں کسی ایک نظریے کو یہ طے کرنے پر اجارہ داری حاصل ہو جائے کہ کون سا علم معتبر ہے اور کون سا نہیں، جیسا کہ ہم نے جے این یو میں دیکھا۔‘

انہوں نے بھارتیہ گیان پرمپرا کو ’بائیں‘ اور ’دائیں بازو‘ کے خانوں سے الگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جامع روایت ہے۔ انہوں نے ’ووک ازم‘ اور بائیں بازو کی فکری اجارہ داری پر بھی تنقید کی۔

ہندوستانی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے

جے این یو کی وائس چانسلر نے ہندوستانی تہذیب کی قدامت کے حوالے سے بھی متعدد دعوے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کو اپنی تہذیب پر فخر کرنا چاہیے اور یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ مغلوں یا انگریزوں نے ہندوستان کو مہذب بنایا۔

انہوں نے کہا،’مغل یہاں آ کر ہمیں مہذب نہیں بنا گئے۔ ہم دنیا کی تمام تہذیبوں سے قدیم ہیں۔ ‘

انہوں نے کاربن ڈیٹنگ اور قدیم مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی تہذیب کو تقریباً 10,000 سال قدیم قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو جمہوریت یا سیاسی اداروں کا تصور مغرب سے نہیں ملا۔

انہوں نے چول حکمرانوں کے اترمیرور کتبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ میگنا کارٹا سے بھی قدیم ہے۔

ہم نے چین کو شکست دی

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستانی علمی نظام کو کسی ایک زبان، خطے، روایت یا برادری تک محدود کر دیا گیا تو یہ اپنی بنیادی تہذیبی روح کو ہی کمزور کر دے گا۔

انہوں نے کہا،’اگر ہندوستانی گیان پرمپرا کو ایک زبان، ایک خطے، ایک روایت یا ایک برادری تک محدود کر دیا گیا تو یہ اپنی ہی تہذیبی بنیاد کو کمزور کر دے گی۔ ایک حقیقی ہندوستانی گیان پرمپرا ہندوستان کے ہر خطے کے تعاون سے فطری طور پر پروان چڑھنی چاہیے۔ اس میں تمل سنگم ادب، شَیو اور ویشنو روایات، آلوار اور نینار، بدھ فلسفہ، جین علمیات، قبائلی ماحولیاتی علم، زبانی روایات، لوک سائنس اور سمندری روایات شامل ہونی چاہیے۔‘

اس کے بعد انہوں نے سوال کیا،’کیا آپ میں سے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستانی بادشاہ عظیم جہاز ساز تھے؟ مراٹھے بھی عظیم جہاز ساز تھے۔ کانہوجی آنگرے کی مثال دیکھیے، جنہوں نے مغربی بحرِ ہند میں اہم کردار ادا کیا۔ راجندر چول کی بات کریں تو ان کے جنوب مشرقی ایشیا سے تعلقات تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے جنوب مشرقی ایشیا تک فتوحات حاصل کیں اور چین کو شکست دی؟ شاید آپ میں سے کسی کو اس بارے میں علم نہ ہو۔ لیکن اپنی تہذیب پر فخر کیجیے۔‘

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ہندوستانی علمی نظام کو صرف برانڈنگ یا تشہیر تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ، ریاضی اور دیگر شعبوں میں ہندوستان کی خدمات کو عالمی سطح  پر اکیڈمک ڈسکورس  کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں آکسفورڈ، ٹوکیو، ہارورڈ، ہائیڈلبرگ اور کیپ ٹاؤن جیسی یونیورسٹیوں میں ہندوستانی مفکرین کو افلاطون، کنفیوشس اور کانٹ کے ساتھ پڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا،’پاننی کو چومسکی کے ساتھ، کوٹلیہ کو میکیاولی کے ساتھ، چارواک کو بقراط کے ساتھ اور آریہ بھٹ کو نیوٹن کے ساتھ پڑھایا جانا چاہیے۔ ابھینو گپت کو ارسطو کے ساتھ اور بدھ منطقیات کو تجزیاتی فلسفے کے ساتھ پڑھایا جانا چاہیے۔‘

بی ایچ یو کے پنڈت دین دیال اپادھیائے چیئر کی جانب سے منعقد یہ سہ روزہ کانفرنس 10 اگست سے 12 اگست تک جاری رہی۔ بی ایچ یو کے مطابق، کانفرنس کا مقصد بھارتیہ گیان پرمپرا اور پنڈت دین دیال اپادھیائے کی فکر کو عالمی اور عصری تناظر میں اکیڈمک ڈسکورس  کا حصہ بناناہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ