رنگ میں لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت، 11 سال بعد باکسر چل بسا
پریچارڈ کولون کا شمار ایک وقت میں باکسنگ کے ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔
2015 میں ایک باکسنگ مقابلے کے دوران شدید دماغی چوٹ کا شکار ہونے والے سابق پورٹو ریکن باکسر پریچارڈ کولون 33 برس کی عمر میں چل بسے۔
پریچارڈ کولون کا شمار ایک وقت میں باکسنگ کے ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ اکتوبر 2015 تک وہ اپنے جارحانہ کھیل اور ناقابلِ شکست ریکارڈ کے باعث شائقین کی توجہ حاصل کررہے تھے۔
ان کے کیریئر کا اہم ترین مقابلہ امریکی باکسر ٹیرل ولیمز کے خلاف ثابت ہوا جس کے دوران کولون کو سر پر متعدد شدید ضربیں لگیں۔ مقابلے کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
شدید دماغی چوٹ کے باعث کولون کو ہنگامی طور پر سرجری سے گزرنا پڑا تاہم ان کی حالت تشویش ناک رہی اور وہ طویل عرصے تک کوما میں رہے۔
بعد ازاں کوما سے بیدار ہونے پر ان کے اعصابی نقصان کی سنگینی سامنے آئی۔ چوٹ کے اثرات اتنے شدید تھے کہ وہ اپنی زندگی کے بقیہ برسوں میں مسلسل طبی اور خاندانی نگہداشت کے محتاج رہے۔
پریچارڈ کولون کے والد رچرڈ کولون نے بیٹے کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی جدائی کا غم اپنی جگہ تاہم اب پریچارڈ ایک بہتر دنیا میں ہیں۔
سابق باکسر اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اہل خانہ کے ہمراہ امریکی ریاست فلوریڈا میں مقیم تھے، ٹیرل ولیمز کے خلاف مقابلے سے قبل پریچارڈ کولون کا پیشہ ورانہ ریکارڈ ناقابلِ شکست تھا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 16 پیشہ ورانہ مقابلے کھیلے اور تمام میں کامیابی حاصل کی۔
کولون کی 16 فتوحات میں 13 ناک آؤٹ کے ذریعے حاصل ہوئی تھیں جس سے ان کے جارحانہ انداز اور رنگ میں موجود صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
باکسنگ میں روشن مستقبل رکھنے والے پریچارڈ کولون کا کیریئر 2015 میں لگنے والی شدید دماغی چوٹ کے بعد ختم ہوگیا جب کہ تقریباً 11 برس تک اس کے اثرات سے لڑنے کے بعد 33 سال کی عمر میں ان کی موت ہوئی۔

