
(24 نیوز)سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں حال ہی میں داخل ہونے والے سینکڑوں تارکین وطن نے معروف ساحلی مقام پر احتجاج کیا اور سپین کے حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں مراکش واپس بھیجنے کے بجائے پناہ دی جائے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ افراد ان ہزاروں تارکین وطن میں شامل ہیں جو تقریباً دو ہفتے قبل بڑی تعداد میں سرحد عبور کرکے سیوٹا پہنچے تھے۔
حکام کے اندازوں کے مطابق اس دوران 72 ہزار سے زائد افراد علاقے میں داخل ہوئے تھے، تاہم ان میں سے بڑی اکثریت اگلے چند دنوں میں رضاکارانہ طور پر مراکش واپس چلی گئی تھی۔
اندازاً 5 ہزار سے 8 ہزار افراد اب بھی سیوٹا میں موجود ہیں۔
سیوٹا کی محدود سہولیات پر دباؤ بڑھنے کے باعث بیشتر تارکین وطن شہر کے ایل ٹرامپولین ساحل یا شہر کے مضافاتی علاقوں میں انتہائی مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:صرف 5 ڈالر کی بجلی میں طیارہ فضا میں! دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرک جہاز نے تاریخ رقم کردی
ان میں سے بہت سے افراد یورپ کے مرکزی حصے یعنی سپین کی سرزمین تک پہنچنے کے موقع کے منتظر ہیں۔
مراکش کے شہر تطوان سے تعلق رکھنے والے ایوب العرود نے بتایا کہ تارکین وطن کو ساحل پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے بقول ہم سمندر کے کنارے سو رہے ہیں، سردی اور بدبو کا سامنا ہے، ہم بہت تکلیف میں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس تارکین وطن کو شہر کے مرکزی علاقوں میں جانے سے روک رہی ہے۔
احتجاج کے دوران بعض افراد نے اسپین کے پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ ان کے ہاتھوں میں ایسے بینرز بھی تھے جن پر ہم مراکش واپس نہیں جانا چاہتے اور ہم بھی انسان ہیں جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین ”ہم تھک چکے ہیں“ اور ”ہمیں حل چاہیے“ جیسے نعرے بھی لگاتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق ساحل کے پتھریلے حصے میں کچھ تارکین وطن اپنے کپڑے دھوتے دکھائی دیے جبکہ بعض افراد عارضی بانس کی چھڑیوں سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔

