عمران خان پمز میں، سارا ڈراما شفا ہسپتال کے باہر، آخر ہوا کیا؟

397852 530778010


سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لایا جانا جعمرات کی شب میری مشکل ترین اسائنمنٹس میں سے ایک تھا۔ حکومت کی طرف سے معلومات کے فقدان نے اسلام آباد میں ایک غیر معمولی صورت حال پیدا کی۔

وفاقی دارالحکومت کے ایچ ایٹ سیکٹر میں واقعے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف میڈیا نمائندوں، تحریک انصاف کے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ہسپتال کے داخللی راستوں پر تحریک انصاف کے پر جوش کارکن، بلوا پولیس اور بکتربند گاڑیاں تعینات تھی۔ 

ہر کسی کی نظریں اس قافلے پر جمی تھیں جس کے بارے میں بتایا جا رہا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال کی جانب آ نے والا ہے۔

رات گئے تک انتظار جاری رہا۔ راستوں پر خواتین، بچے اور مرد اس امید میں کھڑے رہے کہ شاید عمران خان کا قافلہ ان کے سامنے سے گزرے۔ بعض حامیوں نے تو جذبات میں آ کر سڑک پر گل پاشی بھی کر دی۔

حکومت تحریک انصاف کے کسی بھی عمل کے بعد تو دن میں دو تین تنقیدی پریس کانفرسیں کرلیتی ہے لیکن اس اہم موقعے پر مکمل خاموش تھی۔

دوسری جانب صحافیوں کی بڑی تعداد لمحہ بہ لمحہ صورت حال کی کوریج کر رہی تھی۔ کیمرے آن تھے، رپورٹرز لائیو اپ ڈیٹس دے رہے تھے اور ہر نئی اطلاع کے ساتھ امید کی جا رہی تھی کہ اب عمران خان شفا ہسپتال پہنچنے والے ہیں۔

نصب شب کے بعد اطلاع آئی کہ عمران خان اڈیالہ جیل سے روانہ ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور شفا ہسپتال کے باہر موجود میڈیا اور کارکنوں کا انتظار مزید بھاری ہوتا گیا۔

تقریباً ایک بج کر تیرہ منٹ پر عمران خان کے ہسپتال پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی، لیکن صبح ہوتے ہی صورت حال مختلف نکلی۔ اکثر میڈیا ان کے اس ہسپتال میں معائنے کی خبر دیتا رہا۔ جب مستند معلومات شیئر نہ کی جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے صبح اٹھ کر ایکس پھر اپنی دو پوسٹس سے سب کچھ الٹ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کی بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

ان کے مطابق پمز ہسپتال میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے اور طبی معائنے میں عمران خان کو صحت مند پایا گیا۔ بقول وزیر اطلاعات: انہیں طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ شفا ہسپتال کے راستے اور ہسپتال کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر عمران خان کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ وضاحت اپنی جگہ لیکن شفا ہسپتال کے باہر گزری رات کئی سوالات چھوڑ گئی۔ ہسپتال کی تبدیلی واقعی سکیورٹی کا تقاضا بنی، اس پر اب حکومت کو سپریم کورٹ کو وضاحت دینی ہو گی۔ تحریک انصاف کے کارکن اس کی وجہ تھے یا نہیں؟ یہ اسے ثابت کرنا پڑے گا۔

رات کے اس پورے منظر میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیا۔ ایک طرف ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پولیس کی نفری اور میڈیا موجود تھا، دوسری طرف عمران خان کی اصل منزل کے بارے میں واضح معلومات کسی کے پاس نہیں تھیں۔

صحافیوں نے سڑک کنارے کھڑے ہو کر گھنٹوں انتظار کیا، مختلف ذرائع سے تصدیق کی کوشش کی، کبھی کسی گاڑی کی آمد پر کیمرے آن ہوئے اور کبھی نئی اطلاع کی امید میں رپورٹرز نے اپنی پوزیشن سنبھالی۔

یوں عمران خان تو شفا انٹرنیشنل نہیں پہنچے، لیکن اگلی صبح تک منظر بدل چکا تھا، مقام بدل چکا تھا، مگر رات بھر کا انتظار اور سب سے بڑا سوال وہیں موجود تھا: اگر عمران خان کو پمز ہی لے جانا تھا تو شفا ہسپتال کے باہر پوری رات یہ تماشا کیوں لگا رہا؟





Source link

متعلقہ پوسٹ