نوجوان تاجر میر رضا علی کیس کی تفتیشی ٹیم نے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل لیگل افسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ کا موبائل فون فارنزک کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا جبکہ تفتیشی ٹیم نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کو بھی طلب کر کے میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹس کے حوالے سے معلومات حاصل کیں جس پر انھوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹس میں استعمال کی گئی طبی اصطلاح کے حوالے سے تفتیشی ٹیم کو تفصیل سے آگاہی فراہم کی اور رپورٹس کے حوالے سے تفتیشی ٹیم کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹس میں طبی اصطلاح کی وجہ سے تفتیشی ٹیم کو دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، میر رضا کیس کی تفتیش کے لیے قائم کی گئی دوسری تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی عامر فاروقی کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تفتیش کار سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں جس میں میر رضا کے مبینہ آخری لمحات کو دیکھا گیا ہے۔
اس حوالے سے میر رضا کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کے پاس ایسی کوئی فوٹیج تھی تو انھوں نے ہم سے کیوں شیئر نہیں کی آخر اس فوٹیج کو ہم سے کیوں چھپایا جا رہا ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس کی تفتیش کے لیے اس کے کاروباری شراکت دار کو بھی شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا نوجوان تاجر میر رضا کیس کے حوالے سے شارع فیصل نرسری کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کا بھی سلسلہ جاری رہا ، گزشتہ شب نوجوان میر رضا کے اہلخانہ ، دوست ، رشتے دار اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں نے شارع فیصل پر احتجاج کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔
اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے ، احتجاج کے باعث نرسری شارع فیصل پر ایئر پورٹ جانے والے ٹریک پر ٹریفک معطل ہوگیا، تاہم ٹریفک پولیس نے موقع پر پہنچ کر گاڑیوں کو سروس روڈ کی جانب موڑ دیا۔
Source link

