انگلینڈ جمعرات سے لارڈز میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کا سامنا کرتے ہوئے حالیہ شراب نوشی سے متعلق تنازعات کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کرے گا۔
میزبان ٹیم کو گذشتہ ہفتے ہیڈنگلے میں تین روز کے اندر پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دینے کے بعد نہایت پُرجوش ہونا چاہیے تھا، جہاں واپس آنے والے کپتان جو روٹ نے ٹیم کی قیادت کی۔
تاہم انگلینڈ کی پیش رفت پر بات کرنے کی بجائے روٹ نے پری میچ پریس کانفرنس کا بڑا حصہ برائیڈن کارس کے بارے میں گفتگو میں گزارا۔
فاسٹ بولر کو سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے اور اب کرکٹ ریگولیٹر ان کی تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں انہیں ہفتے کو ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس ہتھکڑیاں لگا کر لے جا رہی تھی۔
یہ واقعہ شراب نوشی سے جڑے ان تنازعات کی تازہ کڑی ہے، جو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے تباہ کن 2025-26 دورے کے بعد سے انگلینڈ کا پیچھا کر رہے ہیں۔
سابق کپتان بین سٹوکس، جو اب بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن کو جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ہوم ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
اس کی وجہ لندن کے ایک بار میں پیش آنے والا واقعہ تھا، جو اس وقت رونما ہوا جب دونوں کھلاڑی کرفیو پالیسی کی خلاف ورزی کر بیٹھے تھے۔
روٹ اب اس پالیسی کو ختم کر چکے ہیں۔ کارس ہیڈنگلے ٹیسٹ میں شامل نہیں تھے اور زخمیوں کی غیر موجودگی کے علاوہ لارڈز میں بھی ان کے کھیلنے کے امکانات کم تھے، مگر ان کے رویے پر مایوس روٹ نے منگل کو کہا ’اگر میں بالکل کھل کر بات کروں تو میں بہت زیادہ ناراض ہوں۔
’مسئلہ صرف یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم بار بار میدان سے باہر بے وقوفانہ غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور اس سے میدان میں ہماری کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘
انگلینڈ نے اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کی آٹھ، آٹھ وکٹوں کی بدولت پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں صرف 171 اور 135 رنز پر ڈھیر کر دیا جبکہ خود 409 رنز بنائے۔
اگرچہ نصف سینچری بنانے والے چاروں بلے بازوں میں سے، جن میں جو روٹ بھی شامل تھے، کوئی بھی سینچری نہ بنا سکا۔
اس کے باوجود یہ ایک پیشہ ورانہ کارکردگی تھی، جس میں وہ خود نمائی اور غیر ضروری جارحانہ انداز نہیں تھا جو سٹوکس اور برینڈن میک کولم کے دور کے آخری دنوں میں انگلش کرکٹ کی پہچان بن گیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز ہارنے کے بعد میک کولم کو ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
بابر اعظم کی واپسی کی امید
اس کے برعکس پاکستان ہر شعبے میں کمزور دکھائی دیا۔ ناقص بیٹنگ کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولنگ غیر مؤثر اور غیر درست رہی جبکہ فیلڈنگ بھی شرمندگی کا باعث بنی۔
تاہم پاکستانی کپتان بابر اعظم لارڈز ٹیسٹ میں انگلی کی انجری سے صحت یاب ہو کر واپس آ سکتے ہیں۔
یہ انجری ابتدا میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران لگی تھی اور بعد ازاں بیکنم میں وارم اپ میچ کے دوران ہاتھ پر گیند لگنے سے مزید بڑھ گئی۔
پاکستان کے بولنگ کوچ عمر گل نے کہا ’ہم پُرامید ہیں کہ وہ میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ آج (منگل کو) وہ اچھی حالت میں نظر آئے اور نیٹس میں اچھی بیٹنگ کی۔`
انہوں نے مزید کہا ’انہوں نے مکمل بیٹنگ سیشن میں شرکت کی۔‘
بابر ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈرا ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 193 رنز بنا کر پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹر تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انگلینڈ میں بھی ان کا ریکارڈ عمدہ ہے، جہاں وہ چھ اننگز میں تین نصف سینچریوں کے ساتھ 65.75 کی اوسط سے رنز بنا چکے ہیں۔
اگر بابر نمبر چار پر واپس آتے ہیں تو اذان اویس کو ٹیم سے باہر ہونا پڑ سکتا ہے جبکہ شان مسعود یا عبداللہ شفیق میں سے کسی ایک کو اوپننگ کے لیے اوپر بھیجا جا سکتا ہے۔
پاکستان، جو صرف ایک دہائی قبل ٹیسٹ کرکٹ کی نمبر ایک ٹیم تھا، لارڈز میں اپنے آخری دو ٹیسٹ جیت چکا ہے۔
2018 میں انگلینڈ کے خلاف نو وکٹوں کی بڑی فتح میں بابر نے 68 رنز بنائے تھے۔
اگرچہ پاکستان کی ٹیم غیر معمولی بلندیوں اور مایوس کن پستیوں کے درمیان جھولنے کی طویل شہرت رکھتی ہے، لیکن تین میچوں کی اس سیریز کو برابر کرنے کے لیے اسے نمایاں بہتری دکھانا ہوگی۔
عمر گل نے کہا ’ہمیں پچھلے میچ میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ اگر آپ ٹیسٹ میچ جیتنا چاہتے ہیں تو ہر شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانا ضروری ہے۔ ایک شعبہ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔‘
دوسری جانب، انگلینڈ اپنی آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں صرف تین فتوحات حاصل کر سکا ہے، اس لیے محتاط جو روٹ نے کہا ’ہم جانتے ہیں اس ٹیم میں انفرادی صلاحیت کتنی موجود ہے اور پاکستان اجتماعی طور پر کیا کچھ کر سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی ٹیم لارڈز میں کھیلتی ہے تو عموماً اپنی کارکردگی بلند کر دیتی ہے۔ ہماری یہ ٹیم کسی چیز کو یقینی نہیں سمجھے گی۔‘

