پمز میں 14 بچوں کی موت، خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں: وزیر صحت

397980 422081638


وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بدھ کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ایک انتہائی دلخراش سانحہ ہے، جس میں ایک ماہ سے کم عمر بچوں کی نگہداشت کرنے والے یونٹ میں آتشزدگی ہوئی۔ انہوں نے جان سے جانے والے بچوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بدھ کی صبح سرکاری ہسپتال پمز میں آگ لگنے کے واقعے میں 14 نومولود بچے جان سے چلے گئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے مطابق واقعہ صبح چھ  بج کر 38 منٹ پر سپارکنگ کے باعث پیش آیا اور ایک منٹ بعد، چھ  بج کر 39 منٹ پر آگ پورے وارڈ میں پھیل چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں کو آکسیجن فراہم کرنے والی لائنوں اور سلنڈرز نے آگ پھیلانے میں کردار ادا کیا، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واقعے سے متعلق تمام صورتحال واضح ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے خود کو وزیراعظم کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور اب وزیراعظم کو واقعے کے حوالے سے رپورٹ کریں گے۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری صحت کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، تاہم سیکریٹری صحت سمیت کسی کو تعینات یا ہٹانا وزیراعظم کی صوابدید ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ کسی بھی ذمہ دار کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’آگ پر فی الفور قابو پاتے ہوئے بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر 14 بچے جان سے گئے۔‘

بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی بدھ کو کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر پمز کا دورہ کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور جان سے جانے والے بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں نے چھ سے سات منٹ میں موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کی، جبکہ متعلقہ انتظامی افسران آپریشن مکمل ہونے تک موقع پر موجود رہے۔

طلال چوہدری کے مطابق واقعے کی ریسکیو رپورٹ وزیر داخلہ اور وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا عمل جاری ہے۔ غفلت کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے گی۔

سیکریٹری صحت معطل

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’بچوں کے ساتھ ایسی صورت حال ناقابل تلافی ہے۔ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض والدین نے جان سے جانے والے بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آتشزدگی کے وقت ہسپتال اہلکاروں میں سے ’کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔‘

ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ’اس لمحے وہاں صرف وہ اور کچھ دیگر والدین ہی موجود تھی جبکہ نہ تو گائنی ڈاکٹر موجود تھیں اور نہ ہی نرسنگ سٹاف میں سے کوئی موجود تھا۔‘ 





Source link

متعلقہ پوسٹ