ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی اضافی عارضی جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے اور تنازع کے مستقل خاتمے پر زور دیا ہے، جب کہ بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے یورپ میں امریکی اثاثوں پر حملوں کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ نیٹو نے اپنے اراکین کے دفاع کی یقین دہانی کرائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
ایران کا موقف: وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران مزید عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا اور تنازع کا مستقل، ناقابلِ تکرار خاتمہ چاہتا ہے۔
جوابی کارروائیوں کے امکانات: فنانشل ٹائمز نے دو نامعلوم اندرونی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران نے یورپ میں امریکی اثاثوں پر حملہ کرنے کے امکانات (مثلاً بلغاریہ کا بیزمر ایئر بیس، قبرص کی تنصیبات، اور ہرمز کیبلز) پر غور کیا۔
نیٹو ردِ عمل: ایک نیٹو اہلکار نے کہا کہ اتحاد اپنے اراکین کے دفاع کے لیے تیار ہے اور ضروری اقدامات کرے گا۔
امریکی موقف: صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی بات چیت جاری نہیں اور نہ ہی کسی معاہدے کی ٹائم لائن ہے۔
ایرانی سخت لسانی ردِ عمل: ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزراء پر کڑی تنقید کی اور اقتصادی دباؤ کی حکمتِ عملی کو مسترد کیا۔
علاقائی تنبیہات: ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا کہ امریکہ کی فوجی مداخلت میں معاونت تنازع میں شمولیت شمار ہوگی۔
اقتصادی اثر: صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ تقریباً $92 فی بیرل اور WTI $85 سے اوپر
یہ تنازعہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ہے۔ ایران نے ثالثی کی پیشکش کرنے والے قطر اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا، مگر تہران کا مؤقف مستقل حل اور سیکیورٹی و اقتصادی فریم ورک کی تشکیل پر مرکوز ہے۔ امریکی انتظامیہ نے سخت پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے امتزاج کے ذریعے دباؤ رکھا ہوا ہے، جس سے سفارتی راستے تیزی سے مخدوش ہوئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں یورپ میں ممکنہ ہدف تراکیب نے خطے سے باہر بھی خطرات کی تصویر پیش کر دی ہے۔

