ہندی فلموں کی دنیا میں کچھ اداکارائیں ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان صرف ان کی فلموں سے نہیں بنتی بلکہ ان کی شخصیت، گفتگو، اندازِ فکر اور اپنے فیصلے خود لینے کی صلاحیت بھی انہیں دوسروں سے الگ مقام عطا کرتی ہے۔ نیہا دھوپیا بھی ایسی ہی فن کارہ ہیں۔ ماڈلنگ سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی نیہا نے خوب صورتی کے روایتی تصور کو اپنی شناخت کا واحد ذریعہ نہیں بننے دیا بلکہ اداکاری، ٹیلی ویژن، ریڈیو، میزبانی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک اپنے کام کا دائرہ وسیع کیا۔ کبھی وہ فلموں میں نظر آئیں، کبھی ٹی وی شو کی میزبان بنیں اور کبھی اپنی بے باک گفتگو کے ذریعے خبروں میں رہیں۔ تقریباً ۲؍ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ تفریحی دنیا میں مسلسل موجود رہنے کے لیے صرف کامیابی نہیں بلکہ خود کو بدلتے وقت کے ساتھ ڈھالنے کا ہنر بھی ضروری ہے۔
نیہا دھوپیا کی پیدائش ۲۷؍ اگست ۱۹۸۰ء کو کیرالہ کے کوچی میں ہوئی۔ ان کے والد پردیپ سنگھ دھوپیا بحریہ میں افسر تھے، جب کہ والدہ منپندر دھوپیا گھریلو خاتون تھیں۔ فوجی ماحول سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کا بچپن ایک جگہ محدود نہیں رہا اور خاندان کے ساتھ مختلف مقامات پر رہنے کا موقع ملا۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی مختلف شہروں میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ نئی دہلی آئیں اور جیسس اینڈ میری کالج سے تاریخ میں گریجویشن کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ہی ان کا رجحان ماڈلنگ اور گلیمر کی دنیا کی طرف بڑھنے لگا۔
نیہا نے اپنے کریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور مختلف اشتہارات اور فیشن شوز میں کام کیا۔ اس زمانے میں ماڈلنگ ہندوستانی تفریحی صنعت میں فلموں تک پہنچنے کا ایک اہم راستہ سمجھی جاتی تھی۔ نیہا نے بھی اسی راستے سے آگے بڑھتے ہوئے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ تاہم فلمی سفر شروع کرنے سے پہلے ہی وہ خوبصورتی کے مقابلوں میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکی تھیں۔
۲۰۰۲ء میں انہوں نے فیمینا مس انڈیا مقابلہ جیتا اور بعد میں بین الاقوامی سطح پر مس یونیورس مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اگرچہ وہ مس یونیورس کا تاج حاصل نہیں کرسکیں، لیکن اس مقابلے نے انہیں قومی سطح پر نمایاں شناخت ضرور دے دی۔
مس انڈیا بننے کے بعد فلمی دنیا کے دروازے ان کے لیے کھلنے لگے۔ ان کی پہلی فلم ملیالم زبان کی ’مُناری یپّو‘ تھی، جبکہ بالی ووڈ میں ان کی آمد فلم ’قیامت: سٹی انڈر تھریٹ‘ سے ہوئی۔ فلم میں اجے دیوگن، سنیل شیٹی، سنجے کپور اور دیگر فن کار بھی شامل تھے۔ فلم اگرچہ کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل نہیں کرسکی، لیکن نیہا کی موجودگی نے فلم سازوں کی توجہ ضرور حاصل کی۔
ان کے فلمی سفر میں ’کیا کول ہیں ہم‘، ’شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘، ’پھنس گئے رے اوباما‘، ’ایک چالیس کی لاسٹ لوکل‘، ’سنگھ از کنگ‘، ’دس کہانیاں‘، ’گرم مصالحہ‘ اور دیگر فلمیں شامل رہیں۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر فلموں میں انہیں مرکزی ہیروئن کے طور پر مسلسل کامیابی نہیں ملی، لیکن انہوں نے اپنے لیے ایک الگ جگہ ضرور بنائی۔
نیہا کا معاملہ ان اداکاراؤں سے مختلف رہا جو ایک مخصوص قسم کے کرداروں تک محدود ہوگئیں۔ انہوں نے وقت کے ساتھ معاون کردار، مزاحیہ کردار، سنجیدہ کردار اور ٹیلی ویژن کے مختلف فارمیٹس کو بھی قبول کیا — اور یوں اپنی شناخت کو محض بڑے پردے تک محدود نہیں رکھا بلکہ میزبانی، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیم میں بھی اپنا لوہا منوایا۔

