غزہ جنگ کے دوران یونان کا اسرائیل سے ۶ء۳ ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ

yunan 31926 d


ایتھنز/تل ابیب: یونان نے اسرائیل سے تقریباً ۶ء۳ ارب ڈالر مالیت کے تین جدید فضائی دفاعی نظام خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب پیش رفت کی ہے۔ تقریباً تین سال جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایتھنز ڈیوڈز سلنگ، اسپائیڈر اور باراک ایم ایکس نظام اپنے مجوزہ کثیر سطحی فضائی دفاعی نیٹ ورک "ایکیلیز شیلڈ” میں شامل کرے گا۔
معاہدے کا سب سے بڑا حصہ اسرائیلی کمپنی رافیل کو ملنے کی توقع ہے، جبکہ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز باراک ایم ایکس نظام فراہم کرے گی۔ منصوبے میں ملک گیر مصنوعی ذہانت سے لیس کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بھی شامل ہوگا۔ یونانی کمپنیوں کو تقریباً ۸۲ کروڑ ڈالر مالیت کے ذیلی ٹھیکے ملنے کا امکان ہے، اور پورا منصوبہ ۳۵ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی سودا بن جائے گا، جو ۲۰۲۳ء میں جرمنی کو ہونے والی ایرو۳ فروخت سے بھی آگے نکل جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ پر اسرائیل کو عالمی تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے، جس میں اب تک ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ برطانیہ نے ۳۰ اسلحہ برآمدی لائسنس معطل کیے ہیں، اٹلی، اسپین، کینیڈا اور بلجیم نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی محدود کی ہے، جبکہ نیدرلینڈز کی عدالت نے ایف-۳۵ پرزہ جات کی برآمد روک دی ہے۔ اس کے باوجود یونان کا یہ دفاعی معاہدہ اسرائیل کے ساتھ اس کے فوجی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ