کراچی کے علاقے منگھوپیر سے مبینہ طور پر پولیس وردی اور سادہ لباس افراد نے پولیس اہلکار اور اس کے دوست کو اغوا کیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے، مغوی اہلکار کی کار میں موجود 23 لاکھ روپے نقدی بھی غائب پائی گئی اور تاوان بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مغوی اہلکار کے نمبر سے اس کے بھائی کے واٹس ایپ نمبر پر 10 لاکھ روپے کا تاوان طلب کرنے کا بھی میسج بھیجا گیا ہے، منگھوپیر پولیس نے مغوی پولیس اہلکار کے بھائی محمد حسن کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اینٹی وائلنٹ سیل (اے وی سی سی ) پولیس کو منتقل کر دیا۔
مغوی پولیس اہلکار کے بھائی محمد حسن نے پولیس کو بیان دیا کہ ہفتے کو دوپہر 12 بجے کے قریب میرے دوست نے فون کر کے بتایا کہ عمر گوٹھ جواد کباڑی کی دکان کے پاس متعدد پولیس تمھارے بھائی عباس اور اس کے دوست طلحہ کو زبردستی پکڑ کر لے جارہے ہیں، اس اطلاع پر فوری موقع پر پہنچا تو چند افراد پولیس وردی میں جبکہ دیگر افراد سادہ لباس میں اسلحے سے لیس تھے اور میرے بھائی عباس اور اس کے دوست طلحہ کو زبردستی گھسیٹ کر لے جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں سے پوچھا کہ میرے بھائی کو کہاں اور کس جرم میں لے جا رہے ہو تو بتایا گیا کہ اے وی ایل سی سے ہیں اور پوچھ گچھ کے لیے لے کر جا رہے ہیں جبکہ موقع پر ایک پولیس موبائل میں دونوں کو لےکر فائرنگ کرتے ہوئے ساتھ لے گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی کی آلٹو کار کو پیچھے سے ہٹ کیا اور کار وہاں پر ہی کھڑی ہوئی تھی، جب میں نے کار دیکھی تو ا س میں چابی موجود نہیں تھی، وہاں پر موجود لوگوں نے پوچھنے پر بتایا کہ پولیس موبائل تمھارے بھائی کا پیچھا کرتے ہوئے آئی تھی، پولیس اور اس کے ساتھ موجود سادہ لباس افراد نے فائرنگ بھی کی تھی اور گولی گاڑی کے شیشے میں لگی تھی اور میرے بھائی کی کار کی تلاشی کے دوران کچھ تھیلیاں وغیرہ نکال کر اپنے ہمراہ پولیس موبائل میں رکھ کر وہ بھی لے گئے۔
مدعی کے مطابق وہ بھائی کی دکان گرم چشمہ گوٹھ منگھوپیر گیا تو وہاں پر ملازم نے بتایا کہ صبح عباس اپنے ساتھ 23 لاکھ روپے سامان کی ادائیگی کے لیے ساتھ لے کر گیا تھا، واقعے کے بعد منگھوپیر تھانے گیا اور پولیس کو تمام حالات سے آگاہ کیا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ واقعے کا منگھوپیر پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
مدعی کے مطابق میرے بھائی عباس کے موبائل نمبر سے میرے واٹس ایپ پر میسج آئے، جس پر 10 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا جو کہ بطور ثبوت میرے پاس محفوظ ہے۔
مغوی پولیس اہلکار کے بھائی حسن نے پولیس کو بیان میں دعویٰ کیا کہ 3 پولیس اہلکار اور 3 سے 4 سادہ لباس صورت شناس افراد نے میرے بھائی عباس جو کہ پولیس میں تعینات اور خواجہ اجمیر نگری 15 پولیس میں تعینات ہے، اس سے دوست طلحہ سمیت اغوا کرنے، فائرنگ کر کے نامعلوم مقام پر لے جانے اور 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کرنے کا ہے۔
منگھوپیر پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کو منتقل کر دیا اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایس ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل خالد مصطفیٰ کورائی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے دو افسران اور تین اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا۔
نوکری سے برطرف کئے جانے والوں میں ڈی آئی او انسپکٹر محمد رمضان، اے ایس آئی سعید خان، پی سی نذیر الحق،، پی سی ناصر خانُ اور پی سی فہد شامل ہیں۔

