کرناٹک میں جاری ایس آئی آرکے دوران انفوسس کے شریک بانی نندن نیلے کنی، ان کی اہلیہ روہنی نیلے کنی، بیٹے نہار نیلےکنی اور بیٹی جہانوی نندن نیلے کنی کے نام ڈسکریپنسی لسٹ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سائنسداں اور ’بھارت رتن‘ سی این آر راؤ، کنڑ اداکار شیوراج کمار، زیرودھا کے بانی نکھل اور نتن کامتھ اور پدم شری سے سرفراز سماجی کارکن ہریکلا ہجبا کے نام بھی اسی فہرست میں ہیں۔
انفوسس کے شریک بانی نندن نیلےکنی (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: انفوسس کے شریک بانی نندن نیلےکنی، ان کی اہلیہ، مصنفہ اور سماجی کارکن روہنی نیلےکنی، بیٹے نہار نیلےکنی اور بیٹی جہاوی نندن نیلےکنی کے نام کرناٹک میں جاری ایس آئی آرکے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی ڈسکریپنسی لسٹ میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سائنسداں اور بھارت رتن سی این آر راؤ، کنڑ اداکار شیوراج کمار، زیرودھا کے بانی نکھل کامتھ اور نتن کامتھ، اور پدم شری سے سرفراز سماجی کارکن ہریکلا ہجبا کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
نیلےکنی فیملی اور ان کے بچوں کے معاملے میں تضاد کی وجہ میپنگ کا نہ ہونابتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ ووٹر اندراجات کا 2002 میں ہونے والی گزشتہ ایس آئی آرسے ملان نہیں ہوپایا۔
شیوراج کمار کے معاملے میں بھی یہی وجہ درج کی گئی ہے۔
Oh boy, oh boy. It’s not just Prof. CNR Rao who got the notice. The names in this list are sooooo bloody mind boggling. Goes to prove how ridiculous the SIR exercise is! See below 🧵
— Avinash (@avinashmohan) September 9, 2026
وہیں، کامتھ برادران کے معاملے میں تضاد کی وجہ ’والدین کے نام میں فرق‘بتایا گیا ہے۔ ان ناموں کی جانب ایکس صارف @avinashmohan نے توجہ دلائی تھی۔
غور طلب ہے کہ نندن نیلےکنی نے 2009 سے 2014 تک یو آئی ڈی اے آئی کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ یو آئی ڈی اے آئی نے آدھار کو نافذ کیا تھا۔
اسی سال جولائی میں سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے نوجوانوں کے مظاہروں کے بعد استعفیٰ دینے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ این ٹی اےکے امتحانات میں اصلاحات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس کی قیادت نندن نیلےکنی کریں گے۔
بھارت رتن سی این آر راؤ کے نام پر انتخابی افسر کی وضاحت
بدھ، 9 ستمبر کو کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او)کے ایکس ہینڈل نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسر(اے ڈی ای او)، بی بی ایم پی نارتھ ضلع کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ شیئر کیا۔
اس میں واضح کیا گیا کہ سی این آر راؤ کے معاملے میں ’اپنے نام میں فرق‘کے تحت تضاد درج کیا گیا تھا، لیکن انہیں ذاتی طور پر کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ منگل کو ان کے ’وقار اور خدمات‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا نام براہ راست حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔
چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے راؤ کی رہائش گاہ پر افسران کی جانب سے ان کا احترام کیے جانے کی تصویریں بھی شیئر کیں۔
پریس نوٹ میں کہا گیا،’ بھارت رتن سے سرفراز پروفیسر سی این آر راؤ موجودہ مسودہ ووٹر لسٹ کے مطابق 157-ملیشورم اسمبلی حلقہ کے پارٹ نمبر 59 کے ووٹر ہیں۔ موجودہ مسودہ ووٹر لسٹ میں نام ’پروفیسر سی این آر راؤ، والد ناگیش راؤ ایچ‘ درج ہے، جبکہ 2002 کی ووٹر لسٹ میں نام ’راما، والد ایچ ناگیش‘ درج تھا۔‘
نوٹ میں مزید کہا گیا،’ایس آئی آرکے عمل کے دوران ریاستی الیکشن کمیشن کے نوڈل افسر، بنگلورو ویسٹ سٹی کارپوریشن کے کمشنر، ای آر او-ملیشورم اور پارٹ نمبر 59 کےبی ایل اونے احترام کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پرفارم پہنچایا تھا۔ ان کے وقار اور خدمات سے واقف ہونے کی وجہ سے ہم نے انہیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔بی ایل اونے انہیں کوئی نوٹس دیے بغیر ہی مناسب طور پر ایڈیشنل الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے پاس حتمی منظوری کے لیے ریکارڈ بھیجنے کی سفارش کی۔ 8 ستمبر 2026 کواے ای آر اونے حتمی ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے ریکارڈ کو منظور کر لیا۔‘
پریس نوٹ میں مزید کہا گیا کہ دی ہندو میں ’ایس آئی آر : نام میں فرق کی وجہ سے بھارت رتن سی این آر راؤ کو نوٹس بھیجا گیا‘ کے عنوان سے شائع ہوئی خبر حقائق کے اعتبار سے غلط ہے۔ اس کے ساتھ 157-ای آر او-ملیشورم کے بیان اور پارٹ نمبر 59 کے بی ایل او کی ویڈیو کلپ بھی منسلک کیے جانے کی بات کہی گئی۔
Clarification Press Note issued by the ADEO, BBMP North dated 09.09.2026.@SIR2026@ECISVEEP @SpokespersonECI pic.twitter.com/gXC0qhkSja
— Chief Electoral Officer, Karnataka (@ceo_karnataka) September 9, 2026
یہ وضاحت کئی نیوز اداروں کی جانب سے راؤ کا نام تضاد کی فہرست میں شامل ہونے کی خبر شائع کیے جانے کے بعد جاری کی گئی۔
پدم شری ہریکلا ہجبا کے نام میں بھی تضاد
اسی طرح منگل، 8 ستمبر کو چیف الیکٹورل آفیسر کے ایکس ہینڈل نے جنوبی کنڑ ضلع انتظامیہ کی سرکاری سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کی۔ اس میں بتایا گیا کہ نام میں تضاد پائے جانے کے بعد افسران نے پدم شری سے سرفراز ہریکلا ہجبا سے ملاقات کی اور دستاویز جمع کیے۔
Clarification by the DEO, Dakshina Kannada, Regarding the Name Correction of Padma Shri Awardee Shri Harekal Hajabba.@SIR2026@ECISVEEP @SpokespersonECI pic.twitter.com/E2yI5Mjj0K
— Chief Electoral Officer, Karnataka (@ceo_karnataka) September 8, 2026
جنوبی کنڑ ضلع انتظامیہ نے لکھا،’پدم شری سے سرفراز ہریکلا ہجبا کے نام میں اصلاح سے متعلق معاملے میں واضح کیا جاتا ہے کہ ووٹر کے نام میں تضاد پایا گیا تھا۔ ان کا نام درست کرنے کے لیے افسران نے ان سے ملاقات کی اور دستاویزجمع کیے۔ اب یہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔‘
کرناٹک میں 43.81 لاکھ نوٹس جاری
گزشتہ 4ستمبر کو چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے بتایا تھا کہ کرناٹک میں ’نو میپنگ‘ اور ’تضاد‘کے زمروں کے تحت ووٹروں کے لیے مجموعی طور پر 43,81,141 نوٹس تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 7,31,770 نوٹس ووٹروں کو دیے جا چکے تھے، جبکہ 36,49,373 نوٹس زیر التوا تھے۔
الیکشن کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ نام، عمر، خاندانی رشتوں سمیت دیگر تضادات کو دور کرنے کے لیے ریاست بھر میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(ای آر او)اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) کی جانب سے 12 اکتوبر تک سماعت کی جائے گی۔
گزشتہ4 ستمبر تک کرناٹک کی مسودہ ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر 4,46,38,124 ووٹر موجود تھے۔
ایس آئی آرکے عمل کے گنتی کے مرحلے کے اختتام کے بعد اگست کے آخر میں شائع ہونے والی مسودہ ووٹر لسٹ میں تقریباً 1.07 کروڑ نام حذف کر دیے گئے تھے۔

