اماسرا کا کتا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بلاتا ہے اور مسجد کے باہر کتے کے چرائے گئے جوتوں سے تیار کیا گیا آرٹ ورک۔ تما تصویریں: افتخار گیلانی
لوگ اماسرا قلعہ دیکھنے آتے ہیں، مچھلی کھاتے ہیں، بحیرہ اسود کی نیلاہٹ کو کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں، جنگلوں میں جاتے ہیں اور پہاڑیوں سے ساحل کی تصویریں بناتے ہیں۔ مگر جب واپسی ہوتی ہے، تو شاید ہی کوئی سیاح تاریخ کے یہ اوراق یاد رکھتا ہو۔ حافظے میں اگر کچھ نقش رہ جاتا ہے تو بس وہ سیاہ و سفید کتا… جو اب بھی کالیایچی محلہ کی پُرپیچ گلیوں میں مٹرگشتی کر رہا ہوگا۔ کسی دہلیز پر غفلت سے چھوٹی چپل کو منہ میں دبائے، ادھر اُدھر بھاگتا ہوا۔ اور کہیں کوئی شخص ہاتھ میں اپنا اکلوتا جوتا تھامے، دوسرے کی تلاش میں سرگرداں شاید عین اسی لمحے فاتح مسجد کی دہلیز تک جا پہنچا ہو۔
جنوبی ایشیا میں لوگوں کو مسجد تک لانے کی ذمہ داری عموماً بزرگوں کے حصے میں آتی ہے۔ کہیں کوئی دادا اپنے پوتوں کو نماز کے لیے آوازیں دے رہا ہوتا ہے، کہیں محلے کا کوئی بزرگ نوجوانوں کو مسجد کی طرف بلاتا ہے، اور کہیں تبلیغی جماعت کے ارکان دروازوں پر دستک دے کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیتے ہیں۔لیکن ترکیہ کے بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے شہر اماسرا میں یہ ذمہ داری بظاہر ایک کتے نے سنبھال رکھی ہے۔
اس کا نام کِرپِک ہے۔وہ وعظ کرتا ہے نہ دروازے پر دستک دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی کو نماز کی تلقین بھی نہیں کر سکتا ہے۔ اس نے لوگوں کو مسجدمیں لانے کا اپنا ہی طریقہ ایجاد کیا ہے۔وہ ان کے جوتے چرا لیتا ہے۔
اماسرا کے قدیم قلعے کے اندر کالیچی محلہ کی تنگ گلیوں میں اور اس چھوٹے سے قصبہ کے دیگر محلوں میں کِرپِک گھومتا رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ بھی کشمیریوں کی طرح گھروں میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتارنے کے عادی ہیں۔ چپل، سینڈل اور جوتے دروازوں کے باہر پڑے رہتے ہیں، اور کِرپِک کے لیے شاید اس سے بہتر دعوت کوئی نہیں ہے۔
وہ کسی گھر کے باہر سے ایک جوتا یا چپل منہ میں دباتا ہے اور چل پڑتا ہے۔ اس کا پڑاؤ اکثر تاریخی فاتح مسجد کے باہر ہوتا ہے۔شروع میں قصبہ کے رہائشی حیران تھے کہ آخر جوتے غائب کہاں ہو رہے ہیں۔ پھر چور پکڑا گیا۔

”کِرپِک ہمارے محلے کا کتا ہے۔ اسے جوتوں کا جنون ہے،“ مقامی باشندے کمال دوعونے مسکراتے ہوئے بتایا۔ان کے مطابق، کِرپِک جوتا اٹھا کر مسجد کے صحن تک لاتا ہے، کچھ دیر اس سے کھیل کر اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ جوتے کا مالک اسے ڈھونڈتا ہوا بالآخر مسجد تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر کئی لوگ کہتے ہیں کہ اب مسجد تک آ ہی گئے ہیں تو نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔یوں ایک آوارہ کتے کی شرارت غیر ارادی طور پر دعوتِ نماز بن گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ایک مقامی شخص، جو مسجد کے آس پاس صفائی کرنے پر مامور تھا، نے جب بار بار جوتے پڑے دیکھے تو حیران و پریشان ہو گیا تھا۔ جوتو ں کا ایک انبار سا لگ گیا تھا۔ چند رو ز میں اس کو اصل ماجرا سمجھ آگیا، جب اس نے کتے کو جوتا لاتے ہوئے دیکھا۔ اس نے جوتوں کو پھینکنے کے بجائے قریب ایک درخت سے باندھنا شروع کر دیا تاکہ مالک آ کر اس کی پہچان کر سکیں۔

یوں اماسرا میں ایک عجیب و غریب ”گم شدہ جوتوں کا درخت“ وجود میں آ گیا۔اسی کے ساتھ اس نے شہر میں منادی کروادی کہ اگر کسی کے جوتے کا کوئی پاؤں گم ہے تو فاتح مسجد کے باہر درخت کے تنے سے بندھا ہوا ہوگا۔ دور سے دیکھیں تو یہ درخت کسی جدید آرٹ کی تنصیب معلوم ہوتا ہے۔
کِرپِک اب شہر کے لیے اجنبی نہیں رہا ہے۔ لوگ اس کے لیے کھانا لاتے ہیں اور مسجد کے قریب اس کے لیے ایک چھوٹی سی پناہ گاہ بھی بنا دی گئی ہے۔مسجد کی انتظامیہ بھی اس کا خیال رکھتی ہے۔ چور بہت دیکھے، مگر ایسا چور، جس کی ایسی پذیرائی ہوتی ہو، شاید ہی کہیں ملے۔
انقرہ سے اماسرا کا فاصلہ تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔ نقشے پر یہ فاصلہ کوئی بہت زیادہ نہیں لگتا، مگر راستہ محض کلومیٹروں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔تقریباً چار گھنٹے کی ڈرائیو شمالی اناطولیہ کے میدانوں اور پہاڑوں سے گزرتی ہے۔ طویل راستے میں بہت دیر تک کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ آگے فطرت نے کس منظر کو چھپا رکھا ہے۔

پھر گاڑی ایک سرنگ میں داخل ہوتی ہے، جو کُرے پہاڑوں کو چیر کر بنائی گئی ہے۔ سرنگ کے دوسری طرف نکلتے ہی منظر یکسر بدل جاتا ہے۔کئی دہائیوں تک جموں سے سرینگر آنے والوں کے لیے جواہر ٹنل ایسا ہی دروازہ ہوا کرتی تھی۔ ایک طرف نسبتاً خشک اور سخت پہاڑی منظر، پھر سرنگ کا اندھیرا، اور دوسری طرف نکلتے ہی جیسے کسی نے پردہ اٹھا دیا ہو۔ روشنی بدل جاتی، ہوا کا مزاج بدل جاتا، درختوں کا رنگ بدل جاتا اور سامنے وادی کشمیر کا حسن کھل جاتا ہے۔
کُرے پہاڑوں کے دوسری طرف بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔سرنگ سے نکلتے ہی گھنے سبز جنگلات پہاڑوں کی ڈھلوانوں سے اترتے ہوئے بحیرہ اسود کے نیلے پانیوں تک پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔ گھنٹوں کے سفر کے بعد پہلی بار سبز پہاڑوں کے درمیان سمندر کی نیلاہٹ نظر آئے تو تھکن جیسے بدن سے اترنے لگتی ہے۔نیچے اماسرا شہر ہے۔یہ شہر حیرت انگیز حد تک مختصر ہے۔
مستقل آبادی صرف بیس ہزار کے لگ بھگ ہے، مگر گرمیوں میں اس چھوٹی سی آبادی پر سیاحوں کا سیلاب آ جاتا ہے۔ 2025 میں تقریباً تیس لاکھ افراد نے اماسرا کا رخ کیا تھا۔اس کے باوجود، مصروف ترین تعطیلات کو چھوڑ دیں تو شہر آج بھی اپنی چھوٹی بستی والی رفتار برقرار رکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ترکی کے بہت سے ریٹائرڈ افراد اپنی باقی زندگی گزارنے کے لیے اسے پسند کرتے ہیں۔
ہماری گائیڈ اور ٹور آپریٹر نادیدہ یلماز نے بتایا کہ معمر ریٹائرڈ افراد کے لیے اماسرا میں اس لیے کشش ہے کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے اور ہر چیز آس پاس ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔
پیچھے سرسبز جنگلات اور سامنے بحیرہ اسود کا صاف پانی۔ بازار اور روزمرہ ضرورت کی تمام چیزیں پیدل فاصلے پر ہیں۔ اسی لیے ریٹائرڈ لوگ یہاں رہنا پسند کرتے ہیں۔اسی دوران بینک کی نوکری سے ریٹائر ڈ ہوئے احمد دمیر سے ملاقات ہوئی۔ وہ انقرہ سے شفٹ ہوئے ہیں۔
مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، دس منٹ کی واک میں مل جاتی ہے۔ گھر سے نکلتا ہوں، بندرگاہ تک جاتا ہوں، راستے میں نانبائی کو سلام کرکے روٹی خریدتا ہوں، گالا پازاری، سے سبزیاں لےکر کسی چائے خانے میں بیٹھ جاتا ہوں۔ گاڑی کی ضرورت نہیں، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ ہجوم میں ایک گمنام چہرہ نہیں ہیں۔ اس شہر کے سبھی نواسی ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔
ایک بڑے شہر میں شاید اس آخری جملے کی قیمت زیادہ اچھی طرح سمجھ آتی ہے۔استنبول، انقرہ، دہلی، ممبئی، کراچی یا ڈھاکہ جیسے شہروں میں آدمی اپنی زندگی کا قابل ذکر حصہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں گزار دیتا ہے۔ اماسرا میں فاصلے جیسے سکڑ گئے ہیں۔سابق انجینئر امرے شاہین بھی استنبول چھوڑ کر یہاں آباد ہوئے۔ ان کے بقول؛
استنبول میں آپ پندرہ سال ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہ سکتے ہیں اور پڑوسی کا نام تک معلوم نہیں ہوتاہے۔ یہاں تین ماہ کے اندر مچھلی بیچنے والے کو معلوم ہو گیا کہ مجھے اپنی ہامسی مچھلی کس طرح صاف کروا نا پسند ہے۔ اگر میں دو دن دکان کے سامنے سے نہ گزروں تو سبزی والا پوچھتا ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کبھی گھر آکر حال پوچھ لیتا ہے۔
یہی حال ستر اور اسی کی دہائی کا شمالی کشمیر کا ہمارا قصبہ سوپورکا بھی تھا۔ مگر اب وہ بھی کافی پھیل چکا ہے۔ اماسرا شاید ریٹائرمنٹ کے بعد محض سکون نہیں دیتا، وہ آدمی کو ایک بار پھر پڑوسی بنا دیتا ہے۔
اماسرا کا قلعہ بھی کسی مردہ آثارِ قدیمہ کی جگہ نہیں جہاں ٹکٹ خرید کر داخل ہوں، دیواریں دیکھیں، تصویریں بنائیں اور واپس آ جائیں۔یہ ایک زندہ قلعہ ہے۔اس کی قدیم فصیلوں کے درمیان آج بھی گھر آباد ہیں۔ بچے کھیلتے ہیں، کپڑے سوکھتے ہیں، دروازوں کے باہر جوتے رکھے جاتے ہیں، اور انہی جوتوں میں سے کبھی کوئی کِرپِک اٹھا لے جاتا ہے۔کسی ہندوستانی مسافر کو یہ منظر راجستھان کے جیسلمیر قلعے کی یاد دلا سکتا ہے، جہاں تاریخ کو روزمرہ زندگی سے الگ کر کے عجائب گھر میں بند نہیں کیا گیا ہے۔ اماسرا نے صدیوں کو تہہ در تہہ اپنے اندر محفوظ کیا ہے۔ قدیم آبادیاں، رومی، بازنطینی، جینووی تاجر اور پھر عثمانی، سب نے یہاں اپنے نشان چھوڑے۔
فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد کی قیادت میں عثمانی لشکر نے 1460میں اس شہر کا محاصرہ کیا، تو سلطان شہر کے دلکش منظر سے مسحور ہو کر پکار اٹھا کہ”کیا یہی چشم جہاں ہے۔“ پھر اس نے قلعدار کے نام پیغام بھیجا؛
میں اس قدر حسین و جمیل خطے کو تاراج کر کے حاصل کرنا نہیں چاہتا؛ قلعے کی کنجی میرے روبرو پیش کردو، تاکہ یہ قلعہ تباہ ہونے سے بچ سکے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس پیغام کے بعد، قلعہ اماسرہ کا کمانڈر خود اس ٹیلے پر حاضر ہوا جہاں سلطان خیمہ زن تھے، اور کنجی ان کے حوالے کر دی؛ یوں یہ شہر بغیر کسی خون خرابے کے عثمانی قلمرو میں شامل ہو گیا۔

اس تہذیبی تہہ داری کی شاید سب سے دلچسپ مثال وہی فاتح مسجد ہے جس کے آس پاس کِرپِک اپنے چرائے ہوئے جوتے پہنچاتا ہے۔یہ عمارت ابتدا میں مسجد نہیں تھی۔نویں صدی میں اسے بازنطینی کلیسا کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ سلطان محمد دوم، یعنی محمد فاتح، نے اسکو مسجد میں تبدیل کر دیا۔پانچ صدیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی یہاں نماز ادا ہوتی ہے۔

اس مسجد میں ایک غیر معمولی عثمانی روایت بھی آج تک قائم ہے۔ جمعہ اور عیدین کے خطبوں کے دوران امام ہاتھ میں تلوار تھام کر خطبہ دیتا ہے۔یہاں تاریخ صرف دیواروں پر لکھی نہیں، بعض اوقات منبر پر کھڑی نظر آتی ہے۔اس سے کچھ دوری پر ایک اور اسی طرح کی عمارت ہے۔ مگر وہ ابھی بھی کلیسا ہے اور اس کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
بندرگاہ سے کشتیاں سیاحوں کو تقریباً ایک گھنٹے کے لیے بحیرہ اسود میں لے جاتی ہیں۔ پانی پر پہنچ کر شہر کا جغرافیہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت نے جنگل اور سمندر کے درمیان تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر کہا ہو؛ بس، اپنا شہر یہیں بنا لو۔سبز پہاڑ مکانوں کے عین پیچھے بلند ہوتے ہیں، قلعہ چٹانی ابھار پر بیٹھا ہے، ساحل میں چھوٹی چھوٹی خلیجیں بنی ہیں اور مکانات، بندرگاہ اور فصیلیں اس محدود جگہ میں ایک دوسرے کے ساتھ سمٹ کر رہتے ہیں۔

پانی حیرت انگیز حد تک شفاف ہے۔ ساحل کے قریب نیلے اور سبز رنگوں کی کئی تہیں دکھائی دیتی ہیں اور بعض جگہ سطح کے نیچے تک نظر چلی جاتی ہے۔جنوبی ایشیا سے آنے والے شخص کے ذہن میں فوراً سوال اٹھتا ہے۔ ہمارے بہت سے ساحل، جھیلیں اور دریا پلاسٹک، سیوریج اور بے قابو تعمیرات کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ پھر سالانہ لاکھوں سیاحوں کے باوجود اماسرا اپنا ساحل اس حد تک صاف کیسے رکھتا ہے؟شمال کی طرف دیکھیں تو دور دور تک صرف پانی ہے۔لیکن اسی سمت آگے بڑھتے جائیں تو دوسری جانب کریمیا ہے۔ اسی پرسکون بحیرہ اسود کا دوسرا کنارہ آج روس اور یوکرین کی جنگ کے اہم ترین میدانوں میں سے ایک ہے۔

سیدھے فضائی فاصلے میں سیواستوپول اور یالٹا کے آس پاس کا کریمیائی ساحل یہاں سے تقریباً 330 سے 340 کلومیٹر دور ہے۔ سیواستوپول روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کا تاریخی مرکز ہے، جبکہ کریمیا، جسے روس نے 2014 میں یوکرین سے ضم کیا اور جس الحاق کو عالمی برادری کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی، آج بھی اس جنگ کے مرکز میں ہے۔اماسرا کے ساحل پر بیٹھ کر جنگ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔مگر جغرافیہ کبھی کبھی یاد دلاتا ہے کہ سکون اور جنگ کے درمیان فاصلہ ہماری آنکھ کے اندازے سے بہت کم ہو سکتا ہے۔
اماسرا سے روانگی سے قبل شہر کا میوزیم دیکھنا ضروری ہے۔عمارت بہت بڑی نہیں، مگر اندر داخل ہوتے ہی وقت کا پیمانہ اچانک اتنا پھیل جاتا ہے کہ رومی، بازنطینی اور عثمانی تاریخ بھی نسبتاً نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔یہاں تقریباً 45 کروڑ سال پرانے سمندری خارپشت، آرڈوویشین عہد کی اسٹار فش، تقریباً 41 کروڑ 90 لاکھ سال پرانے سرخس کے نقوش، کیمبرین عہد کے آخری حصے سے تعلق رکھنے والے گیسٹروپوڈز اور جراسک و کریٹیشیئس زمانوں کے امونائٹس موجود ہیں۔
دن بھر انسان رومی اور بازنطینی آثار دیکھ کر انہیں ”قدیم“ سمجھتا رہتا ہے۔ پھر عجائب گھر میں ایک پتھر کے اندر محفوظ سمندری مخلوق بتاتی ہے کہ انسانی تہذیب کی پوری کہانی زمین کی تاریخ میں شاید آخری چند سطروں سے زیادہ نہیں ہے۔
میوزیم یہ بھی بتاتا ہے کہ تقریباً 7000 قبل مسیح کے آخری نیولیتھک دور سے انسانی بستیوں میں مٹی کے برتن ملتے ہیں۔ ان کی شکل، نقش و نگار اور تیاری کے طریقوں میں تبدیلیاں ماہرین آثارِ قدیمہ کو تہذیبوں اور ادوار کی شناخت میں مدد دیتی ہیں۔پھر بحیرہ اسود ایک سمندر نہیں، قدیم دنیا کی تجارتی شاہراہ بن کر سامنے آتا ہے۔رومی تاجر بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کے ساحلوں کے درمیان اناج، شراب، زیتون کا تیل، نمک لگی مچھلی اور خمیر شدہ مچھلی کی چٹنی گارم لے کر سفر کرتے تھے۔

اسی تجارت کے ذریعے دور دراز علاقوں کی اشیا یہاں پہنچتی تھیں، جن میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے مصالحے بھی شامل تھے۔پھر بازنطینی دنیا آتی ہے۔ زیورات بتاتے ہیں کہ قدیم یونانی اور رومی فنون کس طرح مسیحی علامات کے ساتھ نئی شکل اختیار کرتے گئے۔ قسطنطنیہ زیورات سازی کا اہم مرکز بنا، جہاں دھات کو کوٹنے، سانچوں میں ڈھالنے، باریک تاروں اور دانے دار نقش کاری کی تکنیکیں استعمال ہوتی تھیں۔چند کمروں کا یہ عجائب گھر ارضیات، مذہب، گھریلو زندگی، فن، تجارت اور سلطنتوں کو ایک ہی کہانی میں پرو دیتا ہے۔
انسان کے یہاں آنے سے کروڑوں سال پہلے سمندر اپنی مخلوقات کو پتھروں میں محفوظ کر رہا تھا۔ پھر قدیم آبادیاں آئیں، یونانی اور رومی آئے، بازنطینی مسیحیوں نے عبادت گاہیں تعمیر کیں، جینووی تاجروں نے بندرگاہ کو دور دراز تجارتی دنیا سے جوڑا، عثمانیوں نے شہر فتح کیا اور ایک کلیسا مسجد بن گیا۔جدید ترکی کو یہ تمام تہیں ورثے میں ملی ہیں۔
آج لوگ اماسرا قلعہ دیکھنے آتے ہیں، مچھلی کھاتے ہیں، بحیرہ اسود کی نیلاہٹ کو کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں، جنگلوں میں جاتے ہیں اور پہاڑیوں سے ساحل کی تصویریں بناتے ہیں۔
مگر جب اماسرا سے واپسی ہوتی ہے، تو شاید ہی کوئی سیاح تاریخ کے یہ اوراق یاد رکھتا ہو۔ حافظے میں اگر کچھ نقش رہ جاتا ہے تو بس وہ سیاہ و سفید کتا… جو اب بھی کالیایچی محلہ کی پُرپیچ گلیوں میں مٹرگشتی کر رہا ہوگا۔ کسی دہلیز پر غفلت سے چھوٹی چپل کو منہ میں دبائے، ادھر اُدھر بھاگتا ہوا۔ اور کہیں کوئی شخص ہاتھ میں اپنا اکلوتا جوتا تھامے، دوسرے کی تلاش میں سرگرداں شاید عین اسی لمحے فاتح مسجد کی دہلیز تک جا پہنچا ہو۔
جہاں فضا مؤذن کی صدا سے گونج رہی ہے، جو اسے فلاح کی طرف پکار رہا ہے۔ وہ گمشدہ جوتے کی فکر کو پل بھر کے لیے پسِ پشت ڈال کر مسجد کے سکوت میں سر بسجود ہو جاتا ہے؛ اور جب باہر نکلتا ہے تو دل ہی دل میں اس بے زبان کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتا، جس کی ایک شوخ شرارت اسے بازیابی اور اصل کامیابی کی سمت لے آئی تھی۔

