نیویارک، — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر رکن ممالک کے مابین اختلافات ایک بار پھر سامنے آگئے۔ ۱۲ ممالک پر مشتمل "یونائٹنگ فار کنسنسس” (UfC) گروپ نے سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور طویل مدتی گردشی نشستیں متعارف کرانے کی حمایت کی ہے۔
جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران جاری مشترکہ بیان میں یہ موقف پیش کیا گیا۔ گروپ میں ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹاریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، پاکستان، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکی شامل ہیں۔
دوسری جانب ہندوستان، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی-4 گروپ نے مستقل اور غیر مستقل، دونوں اقسام کی رکنیت میں توسیع کی حمایت کی ہے۔ 22 ستمبر کو نیویارک میں ملاقات کے بعد جاری بیان میں جی-4 نے موجودہ کونسل کے ڈھانچے کو 8 دہائیاں پرانا اور غیر نمائندہ قرار دیا۔
سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 5 مستقل ارکان (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس) ویٹو اختیار رکھتے ہیں۔ اصلاحات پر بین الحکومتی مذاکرات 2008 سے جاری ہیں، مگر ڈھانچے پر اتفاق تاحال نہیں ہوسکا۔

