ہرے بھرے پودے نہ صرف وادیوں، پہاڑوں یا کھیتوں کی شان بڑھاتے ہیں بلکہ رہائشی گھروں کی خوب صورتی، دل کشی اور قدرتی شان میں اضافہ کا باعث ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا بندہ ہو جسے پودوں میں کشش محسوس نہ ہو۔
ہوم گارڈننگ کے شوقین افراد اپنے گھروں میں صحن، لان، ٹیرس یا چھتوں پر مختلف انواع کے پودے لگا کر اپنے ذوق کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ آج کل انڈور گارڈننگ (گھر کے اندر پودے لگانا) محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ صحت مند طرزِزندگی کی ضرورت بن چکا ہے۔ جب بات ہو ایسے پودے کی جو کم دیکھ بھال میں بھی گھر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دے، تو سب سے پہلا نام منی پلانٹ کا ذہن میں آتا ہے۔
منی پلانٹ گھروں میں لگائے جانے والے مقبول ترین سجاوٹی پودوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی خوبصورت سبز پتیاں، بیل کی شکل میں بڑھنے کی صلاحیت اور نسبتاً آسان دیکھ بھال سے اس کی بھرپور نشوونما اسے گھریلو باغبانی کے شوقین افراد کے لیے ایک پسندیدہ انتخاب بناتی ہے۔ اسے گھر کے اندر گملوں، لٹکتی ہوئی باسکٹوںاور بعض اوقات پانی سے بھرے شیشے کے برتنوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ منی پلانٹ کو مناسب روشنی، پانی اور ماحول فراہم کیا جائے تو یہ خوبصورت پودا بیل کی طرح بڑھتے ہوئے گھر کے مختلف حصوں کی خوب صورتی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
منی پلانٹ کو مقامی زبان میں زربیل بھی کہا جاتا ہے جس سے ایک عام تاثر پھیلا ہوا ہے کہ یہ جس گھر میں نشونما پا جائے اس میں دولت کی ریل پیل ہوجاتی ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ منی پلانٹ کا پھیلاؤ گھر میں ماحول کو صاف اور خوشگوار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
بوٹینیکل زبان میں اسے ایپی پریم نم آوریم (aureum Epipremnum ) یا پوتھوس (Pothos) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سدا بہار بیل ہے جو اپنی خوبصورت پتیوں اور آسان نگہداشت کی وجہ سے دنیا بھر کے گھریلو باغبانی کے شوقین افراد میں مقبول ہے۔ آئیے ہم منی پلانٹ کی مختلف اقسام، اس کی دیکھ بھال کے طریقے اور گھر میں رکھنے کے فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ منی پلانٹ کی مشہور اور خوب صورت اقسام ، جن میں سے ہر ایک اپنے رنگ، بناوٹ اور پتیوں کے ڈیزائن کی وجہ سے منفرد ہے۔
گھروں میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقسام درج ذیل ہیں:
گولڈن پوتھوس ( Pothos Golden): یہ منی پلانٹ کی سب سے عام اور کلاسک قسم ہے۔ اس کے دل کی شکل کے پتوں پر گہرے سبز رنگ کے ساتھ پیلے اور سنہری رنگ کے دھبے ہوتے ہیں۔ یہ کم روشنی کو بھی آسانی سے اپنی نشوونماکر لیتا ہے۔
ماربل کوئین ( Queen Marble): اگر آپ کو سفید اور سبز رنگ کا امتزاج پسند ہے تو یہ قسم بہترین ہے۔ اس کے پتے سفید اور کریمی رنگ کی لکیروں سے بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ سنگِ مرمر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس قسم کو برقرار رکھنے کے لیے تھوڑی زیادہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیون پوتھوس (Neon Pothos): اپنے نام کی طرح اس کے پتے چمک دار پیلے اور ہلکے سبز (طوطی) رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس پر کوئی دھبہ نہیں ہوتا۔ یہ اندھیرے کمروں یا ڈرائنگ روم کے کونوں کو روشن کرنے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
این جوائے پوتھوس (N’Joy Pothos): یہ ایک چھوٹے پتیوں والی جدید قسم ہے، جس کے پتوں پر واضح طور پر سفید اور سبز رنگ کے بڑے بڑے پیچز (پیوند) ہوتے ہیں۔ یہ گملوں اور ہینگنگ باسکٹس میں بہت خوب صورت لگتی ہے۔
جیسینیا پوتھوس (Jessenia Pothos): اس قسم کے پتے گہرے سبز ہوتے ہیں جن پر لیموں کے رنگ (Chartreuse) کی ہلکی جھلکیاں ہوتی ہیں۔ یہ ماربل کوئین سے ملتی جلتی ہے لیکن اس کا رنگ زیادہ شوخ ہوتا ہے۔
منی پلانٹ کی صحیح نگہداشت کیسے کریں؟
منی پلانٹ کو ہارڈی پلانٹ کہا جاتا ہے، یعنی یہ سخت جان پودا ہے جو آسانی سے نہیں مرتا۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا منی پلانٹ صحت مند رہے، تیزی سے پھیلے اور اس کے پتے چمک دار رہیں، تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
۱۔ روشنی کا انتخاب: منی پلانٹ کو براہِ راست دھوپ سے بچائیں۔ تیز دھوپ سے اس کے پتے جل جاتے ہیں۔ اسے ایسی جگہ رکھیں جہاں فلٹر شدہ یا بالواسطہ تیز روشنی آئے۔ کم روشنی میں بھی یہ زندہ رہ لیتا ہے، لیکن اس کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے اور پتوں کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔
۲۔ پانی دینے کا درست طریقہ : پودے کو ضرورت سے زیادہ پانی دینا سے اس کی جڑیں گل جاتی ہیں اور اس کی موت کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔ پانی صرف اسی وقت دیں جب گملے کی اوپر کی ایک انچ مٹی خشک محسوس ہو۔ اگر مٹی ہر وقت گیلی رہے گی تو جڑیں گل جائیں گی۔ سردیوں میں پانی کی مقدار مزید کم کر دیں۔ اگر آپ نے اسے پانی کی بوتل میں لگایا ہے، تو ہر ہفتے پانی تبدیل کریں۔
۳۔ مٹی اور گملا: منی پلانٹ کے لیے ایسی مٹی تیار کریں جس میں پانی کھڑا نہ ہو۔ میں عموماً گملے کی مٹی میں استعمال شدہ چائے کی پتی، سوکھے ہوئے پتوں کو چورا بنا کر مکس کردیتا ہوں اس سے مٹی نرم اور مسام دار رہتی ہے اور پانی بہ آسانی جذب ہوکر جڑوں تک پہنچ جاتا ہے۔ گملے کے نیچے سوراخ کا ہونا لازمی ہے تاکہ اضافی پانی باہر نکل سکے۔ اے سی سے نکلنے والا پانی بھی پودوں کے لیے کھاد کا کام دیتا ہے۔
۴۔ منی پلانٹ نمی اور مرطوب (Humid) موسم پسند کرتا ہے۔ گرمیوں میں اس کے پتوں پر پانی کا سپرے (Mist) کرتے رہیں۔ اس سے پتوں پر جمی دھول صاف ہو جاتی ہے اور پودا تروتازہ رہتا ہے۔ اسے شدید سردی اور اے سی (AC) کی براہِ راست ٹھنڈی ہوا سے دور رکھیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ منی پلانٹ کے بڑے پتے نکلیں تو گملے کے درمیان میں موس پائپ رکھ کر اس کے ساتھ نیا نکلتا ہوا منی پلانٹ لگادیں، پلانٹ کی ٹہنی کو کسی نرم ربر یا سوتی دھاگے یا پلاسٹک کے کلپ سے موس پائپ کے ساتھ فکس کردیں۔ جیسے ہی اس کی جڑیں موس پائپ کے ساتھ چپک جائیں گی نئی نکلنی والی شاخ موٹی ہوتی ہوئی بڑے پتے بناتی جائے گی۔موس پائپ نرسریوں سے بھی مل جاتا ہے اور گھر میں بھی بہ آسانی تیار کیا جاسکتا ہے۔
۵۔منی پلانٹ کو بہت زیادہ کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سال میں دو بار (بہار اور برسات کے موسم میں) نائٹروجن سے بھرپور مائع کھاد یا گوبر کی پرانی کھاد دینا اس کی نشوونما کو تیز کر دیتا ہے۔
گھر میں منی پلانٹ رکھنے کے حیرت انگیز فوائد گھر میں منی پلانٹ لگانا صرف آرائش کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ سائنس اور قدیم فلسفے دونوں ہی اس کے فوائد کی تائید کرتے ہیں:
۱۔ فضائی آلودگی کا خاتمہ: منی پلانٹ ہوا کو صاف کرنے والے بہترین پودوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہوا میں موجود زہریلے کیمیکلز جیسے کہ بینزین، فارملڈیہائڈ، زائلین اور ٹولین کو جذب کر لیتا ہے۔ یہ کیمیکلز عام طور پر گھر کے پینٹ، قالین اور صفائی کے لوشن سے خارج ہوتے ہیں۔ منی پلانٹ ان کو صاف کر کے گھر میں آکسیجن کی مقدار بڑھاتا ہے۔
۲۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی : سبز رنگ انسانی آنکھوں اور دماغ کے لیے پرسکون اثرات رکھتا ہے۔ گھر یا دفتر کی میز پر منی پلانٹ رکھنے سے کام کی تھکن اور ذہنی دباؤ (Stress) کم ہوتا ہے۔ پودوں کی دیکھ بھال کرنا خود ایک بہترین تھراپی ہے جو انسان کو منفی خیالات سے دور رکھتی ہے۔
۳۔ اچھی نیند اور صحت کا ضامن: اگر منی پلانٹ کو بیڈ روم میں رکھا جائے تو یہ رات کے وقت کمرے کی ہوا کو صاف رکھتا ہے، جس سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ یہ کمرے کی نمی (Humidity) کو برقرار رکھتا ہے، جس کی وجہ سے خشک جلد، سانس کی بیماریوں اور الرجی کے مسائل میں کمی آتی ہے۔
۴۔ کمپیوٹر اور الیکٹرانک آلات کی شعاعوں کا توڑ: آج کل ہر گھر میں وائی فائی، کمپیوٹر اور موبائل فونز کا استعمال عام ہے۔ منی پلانٹ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ الیکٹرانک اشیاء سے نکلنے والی نقصان دہ ریڈی ایشنز (شعاعوں) کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے ٹی وی لاؤنج یا ورک ڈیسک پر رکھنا مفید ہے۔
گھروں میں منی پلانٹ رکھنے کی جگہ منی پلانٹ کو گھر کے تقریباً مختلف حصوں میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم جگہ کا انتخاب کرتے وقت روشنی اور ہوا کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
۱۔ کھڑکی کے قریب: ایسی کھڑکی جہاں روشن مگر بالواسطہ روشنی آتی ہو، منی پلانٹ کے لیے موزوں جگہ ہے۔ تیز دھوپ براہِ راست پتوں پر پڑنے سے بعض اوقات پتے جھلس سکتے ہیں۔
۲۔ ڈرائنگ رو م: خوب صورت گملے میں منی پلانٹ ڈرائنگ روم کی سجاوٹ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسے شیلف، میز یا کسی اونچی جگہ پر رکھا جائے تو اس کی لٹکتی ہوئی بیل خاصا خوب صورت منظر پیش کرتی ہے۔
۳۔ بالکونی: اگر بالکونی میں تیز براہِ راست دھوپ کے بجائے روشن سایہ ہو تو وہاں بھی منی پلانٹ رکھا جا سکتا ہے۔ بہت زیادہ دھوپ اور شدید گرمی سے اسے محفوظ رکھنا بہتر ہے۔
۴۔ لٹکتی ہوئی باسکٹ :منی پلانٹ کی بیل جب نیچے کی طرف بڑھتی ہے تو لٹکتی ہوئی باسکٹ میں بہت خوبصورت لگتی ہے۔ اسے دیوار یا چھت سے مناسب فاصلے پر لٹکایا جا سکتا ہے۔
۵۔گھر کے صحن میں جہاں کچھ دیر دھوپ رہتی ہو پھر چھاؤں ہوجاتی ہو وہاں کسی خالی دیوار پر بانس کی باریک کٹی ہوئی چھڑیوں سے جال بنادیں اور اس کے اوپر کی جانب دیوار کی چوڑائی کے بقدر آٹھ یا دس انچ کے پلاسٹک پائپ کو آدھا کاٹ کر اس میں ورمی کمپوسٹ یا ناریل کی چھال(کوکوپیٹ) اور خشک پتوں سے نرم تیار کردہ مٹی میں منی پلانٹ کی لمبی لمبی شاخوں کو گول گول گچھے بناکر اور لمبائی کے رْخ کئی تہیں لگاکر مٹی میں دبادیں اور اسے شاور سے روزانہ پانی دیتے رہیں مہینے بھر میں اس کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہوئی بڑھتی رہیں گی اور سال بھر میں یہ گھنی اور صحت مند، لٹکتی ہوئی شاخیں بڑھتی جائیں گی اور ہہت جلد یہ ساری دیوار پر پھیل کر گھر کے آنگن کو دلکش بنا دے گی۔
منی پلانٹ کی کٹنگ لگانے کے بہترین مہینے
فروری سے اپریل (بہار کا موسم): موسم میں اعتدال اور گرمی کی ابتدا کی وجہ سے جڑیں بہت تیزی سے پھوٹتی ہیں۔
جون سے ستمبر (برسات کا موسم): مون سون اور بارشوں کے دنوں میں ہوا میں نمی (Humidity) کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، جو کٹنگ کو سوکھنے سے بچاتا ہے اور جڑیں سو فی صد کام یاب نکلتی ہیں۔
کٹنگ لگانے کے اہم طریقے اور اصول: نوڈ (Node) کا انتخاب: ہمیشہ ایسا تنے کا ٹکڑا لیں جس پر کم از کم دو سے تین ’’نوڈز‘‘(وہ ابھرے ہوئے چھوٹے حصے جہاں سے پتے نکلتے ہیں اور جڑیں بنتی ہیں) موجود ہوں۔ منی پلانٹ کی کٹنگ تقریباً دس سے پندرہ سینٹی میٹر لمبی ہونی چاہیے۔
حاصلِ کلام
منی پلانٹ قدرت کا ایک ایسا انمول تحفہ ہے جو خوب صورتی، صحت اور سادگی کا بہترین امتزاج ہے۔ اسے گھر میں اگانے کے لیے کسی بڑی سرمایہ کاری یا گارڈننگ کی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ اسے مٹی کے گملے میں اگائیں، پانی کی کانچ کی بوتل میں سجائیں، یا دیواروں پر اس کی بیل چڑھا دیں۔ کافی کے خالی جار میں پانی بھر کر لگادیں۔ یہ ہر روپ میں مسحور کن دکھائی دیتا ہے۔ اگر ابھی تک آپ نے گھر میں منی پلانٹ کی دلکشی کو جگہ نہیں تو آج ہی گھر کے کسی کونے کو منی پلانٹ کے نام کریں اور ایک صحت مند، پرسکون اور سرسبز ماحول کی طرف قدم بڑھائیں۔

