اداکارہ عائشہ عمر نے جنسی تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے رویے پر آواز اٹھاتے ہوئے معاشرے میں متاثرین کو قصوروار ٹھہرانے کے رجحان پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ توجہ متاثرہ افراد کے لباس اور معمولات کے بجائے تشدد کرنے والوں کے عمل پر ہونی چاہیے۔
عائشہ عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں جنسی تشدد کے واقعات کے بعد متاثرہ خواتین سے سوالات کرنے اور انہیں ذمہ دار قرار دینے کے بجائے ملزمان کے احتساب کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
شیئر کی گئی پوسٹ میں نشاندہی کی گئی کہ خواتین، بچوں اور جانوروں کے علاوہ مردہ افراد کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن ایسے معاملات میں بھی اکثر خواتین کے لباس، گھر سے نکلنے کے وقت اور باہر جانے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

پوسٹ میں بنیادی سوال یہ کیا گیا کہ متاثرین پر الزام لگانے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی کہ مرد جنسی تشدد کرتے ہی کیوں ہیں؟ اس پیغام کے ذریعے معاشرتی رویوں اور ذمہ داری کے تعین پر توجہ دلائی گئی ہے۔
عائشہ عمر نے یہ پوسٹ ایسے وقت میں شیئر کی ہے جب جنسی تشدد کے متعدد واقعات خبروں میں زیر بحث ہیں اور متاثرین کے تحفظ، انصاف اور ملزمان کے احتساب سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آ رہے ہیں۔

