
(ویب ڈیسک)تنزانیہ کی صدر سامیا سولوہو حسن نے ملک میں ایندھن کی شدید قلت اور قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر حکومتی اخراجات کم کرنے کیلئےاہم فیصلہ کرتےہوئے حکام کو سرکاری دوروں پر الگ الگ گاڑیاں استعمال کرنے کی بجائے ایک ہی بس میں سفر کرنے کا حکم دیا ہے۔
سامیا سولوہو حسن نے اپنے سرکاری قافلے میں شامل گاڑیوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے والے حکام اب ایندھن کی بچت کے لیے مشترکہ بسوں میں سفر کریں۔ ان کی جانب سے یہ اقدام مشرقی افریقی ملک میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
Tanzania’s President Samia Suluhu Hassan is facing criticism for having a convoy of 120 vehicles. pic.twitter.com/YCwL8H4OWu
— Africa Facts Zone (@AfricaFactsZone) July 22, 2024
صدر تنزانیہ کو ان کے بڑے قافلے پر تنقید کا سامنا بھی رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر درجنوں گاڑیاں شامل تھیں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، تاہم اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم ایندھن کے استعمال میں کمی کا آغاز کر رہے ہیں، اور میں اس کی شروعات اپنے دفتر سے کر رہی ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی میں سفر کرتی ہوں تو سینئر حکام اپنی اپنی گاڑیوں میں میرے پیچھے آتے ہیں۔ اب سے جہاں بھی میں جاؤں گی، وہ سب ایک ہی بس میں اکٹھے سفر کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی انتظامات جن میں پولیس اسکواڈ اور اضافی بیک اپ گاڑی شامل ہے برقرار رہیں گے۔
ان کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنزانیہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ رجحان کئی افریقی ممالک میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کے باعث تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:8ویں کلاس کے نتائج کا اعلان، پہلی تینوں پوزیشن طالبات لے اڑیں

