کم عمر بچی کا ریپ؛ دہلی کی لڑکیوں میں عدم تحفظ اور غصہ گلوبل نیوز بن گیا

news 1790794793 3952


(وسیم عظمت)دہلی کے پبلک پارک میں 17 سال کی سٹوڈنٹ بچی کا ریپ اور اس واقعہ پر دہلی کی سٹوڈنٹ لڑکیوں کا سخت احتجاج انتڑنیشنل  میڈیا کی خبر بن گیا۔ اس دوران بھارتی پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ کے ریپ اور قتل کی افواہ پھیل گئی ، پرتشدد احتجاج ہوا اور  وقت  صورتحال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے کیمپس غصے  اور خوف سے بھرے ہوئے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں دس روز کے لئے بند کر دی گئی ہیں۔ 

سی این این، بی بی سی اور دی گارڈین سمیت متعدد انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹس نے دہلی میں سترہ سال کی بچی کے گینگ ریپ پر اپنی رپورٹین شائع کی ہیں جن میں دہلی میں لڑکیوں مین عدم تحفظ کے  شدید احساس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انڈیا میں صرف ایک سال میں ریپ کے  30,000 واقعات رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیئے:  دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں 

دہلی میں کالکاجی، ایل ایس آر کے قریب  پبلک پارک میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ  کئی افراد کے ریپ کے واقعہ کے بعد دہلی کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی لوگوں نے اپنی بچیوں کو کالج بھیجنا بند کر دیا۔ اس صورتحال پر لڑکیوں نے سخت ردعمل طاہر کیا اور  جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی لڑکیاں، کئی صف اول کے گرلز کالجوں کی لڑکیاں اور عورتوں کے حقوق کی سرگرم کارکن سب سڑکوں پر آ گئیں، سخت احتجاج ہوا، لڑکیوں نے طویل جلوس نکالے، شعلہ فشاں تقریریں کیں، اس ساری احتجاجی سرگرمی نے انٹنیشنل میڈیا کی توجہ کھینچ لی۔ اب صف اول کی نیوز آؤٹ لیٹس دہلی میں اس بچی کے ریپ پر ہونے والے احتجاج پر اپنی ایکسکلیوسِو رپورٹیں شائع کر رہی ہیں۔

news 1790794796 5737

بی بی سی نے  دو دن پہلے اپنی ویڈیو رپورٹ میں کہا کہ اس ریپ کے واقعہ کے سبب دہلی میں لڑکیاں خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہیں۔ بی بی سی کی رپورٹر نے ایک احتجاج جلوس میں شریک کئی لڑکیوں سے گفتگو کے سورٹ اپنی اس رپورٹ میں شامل کئے۔

دی گارڈین نے اپنی آج  30 ستمبر کی اشاعت مین یہ سٹوری شامل کی جس کی ہیڈلائن تھی”ہم انصاف چاہتے ہیں’: ریپ کےسلسلہ نے ہندوستانی یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو متحرک کردیا۔”

دی گارڈین کی اس رپورٹ کی سب ہیڈ لائن تھی : "خواتین کا کہنا ہے کہ 14 سال قبل دہلی کے بدنام زمانہ نربھیا بس ریپ کیس کے بعد سے کچھ نہیں بدلا ہے۔”

news 1790794796 7147

گارڈین نے اپنی رپورٹ میں احتجاج کرنے والی ایک لڑکی کے پوسٹر کا حوالہ دیا جس پر لکھا تھا،  "لڑکیوں کو کرفیو کی ضرورت نہیں ہوتی، ریپ کرنے والوں کو نتائج کی ضرورت ہوتی ہے،” ایک دوسرے پوسٹر پر لکھا تھا،  "اپنی خواتین کو گھر میں بند کرنے کے بجائے اپنے نفس کو قابو کریں!” ۔

گارڈین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دہلی میں سینکڑوں خواتین اپنے یونیورسٹی کیمپس کے دروازوں سے نکل کر دہلی کی گلیوں میں چلی آئیں – جہاں جنسی ہراسانی، مارپیٹ، کیٹ کالنگ اور چھیڑ چھاڑ ایک مستقل، روزانہ کی دھمکی ہے – انہوں نے غصے اور نافرمانی کے نعرے میں ایک ساتھ  پکار پکار کر مطالبہ کیا: ’’ہمیں انصاف چاہیے۔‘‘

گارڈین نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہندوستان کے یونیورسٹی کیمپس میں جو غصہ پھوٹ پڑا ہے وہ دوہرا ہے۔ اس کا محرک وحشیانہ عصمت دری کا ایک سلسلہ تھا جو حالیہ ہفتوں میں دہلی میں ہوئے ہیں، اس میں دہلی یونیورسٹی کے قریب ایک پبلک پارک میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کرنے والے تین افراد نے خود کو پولیس افسر ظاہر کیا تھا۔

news 1790794796 4703
Caption  موم بتی کی روشنی سے روشن "خواتین کے خلاف تشدد بند کرو” کے پلے کارڈ  کے پیچھے ایک عورت کا پختہ چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس چہرے پر گہرا دکھ نمایاں ہے۔

گارڈین نے ایک روز پہلے  29 ستمبر کو بھی بھارت مین ریپ کے اس حالی ہواقعہ سے جنم لینے والی احتجاج کی تحریک پر ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دہیل سے باہر دوسرے شہروں مین ہونے والے احتجاجوں کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا: "جموئی سے لے کر دہلی تک جنسی حملوں سے تحفظ کا بوجھ خواتین پر نہیں ڈالا جا سکتا”
آج کی رپورٹ میں گارڈین نے لکھا،” صرف ایک ہفتہ قبل، ایک اور 17 سالہ لڑکی کو دہلی کے سوروپ نگر محلے میں اس وقت گینگ ریپ اور قتل کر دیا گیا جب وہ دوستوں سے ملنے گئی تھی۔ ملزم نے مبینہ طور پر اس کی عصمت دری کی، اسے چاقو مار کر قتل کیا اور اس کی لاش کو ایک کھیت میں پھینک دیا، جہاں کئی دن بعد اسے کتے نے آدھا کھایا۔” رپورٹ ،میں مزید لکھا گیا، "اسی مہینے میں ایک 11 سالہ اور ایک چھ سال کی بچی کی عصمت دری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ ماہ دہلی میں سلیپر بس میں سوار ہونے کے بعد ایک 16 سالہ لڑکی کو بس ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔”

دہلی یونیورسٹی کے کیمپس میں احتجاج میں حصہ لینے والی خواتین نے نابالغوں کے ساتھ ہونے والے ان مبینہ پرتشدد عصمت دری کے واقعات  کو نفرت انگیز اور ناقابل معافی قرار دیا ہے – لیکن انہیں اس بات پر زور دینے کے لیے بھی تکلیف ہوئی ہے کہ  یہ واقعات معمول ہیں۔ 

دہلی کے بدنام زمانہ نربھیا ریپ کیس کو چودہ سال گزر چکے ہیں، جب ایک  لڑکی کے ساتھ بس میں اجتماعی عصمت دری کی گئی اور وہ کئی روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ لیکن اس نے  انٹرنیشنل غصے کو بھڑکا دیا اور متعدد قانون سازیوں کی بات ہوئی اور حکومت کی جانب سے وعدے کیے گئے، خواتین کا کہنا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ان کے لیے، ہندوستان کی سڑکیں، خاص طور پر دہلی میں، ہمیشہ کی طرح غیر محفوظ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں ہر 20 منٹ میں ایک عورت کی عصمت دری کی جاتی ہے – حالانکہ خیال کیا جاتا ہے کہ دائمی کم رپورٹنگ کی وجہ سے حقیقی پیمانے اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

اس ہفتے، سپریم کورٹ نے کہا کہ لگاتار پانچ عصمت دری کے واقعات نے "ایک منظم ناکامی کو واضح طور پر اجاگر کیا” اور یہ مدد نہیں کر سکتا لیکن "2012 کے نربھیا واقعہ سے دردناک متوازی متوجہ کر سکتا ہے”۔

وشنوی دھرو، 21، دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کی طالبہ، بدھ کی سہ پہر "پیدرانہ نظام کو توڑ” کے احتجاجی مارچ میں خواتین مظاہرین میں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی ایک خاتون کو نہیں جانتی جو اس شہر میں رہتی ہو اور خود کو محفوظ محسوس کرتی ہو۔

دہلی میں ریپ کے  خلاف احتجاج کے دوران پنجاب کی یونیورسٹی میں ریپ کی افواہ پر تشدد بھرے احتجاج کا آغاز؛ بی بی سی پنجابی کی رپورٹ

ایک طرف تو بھارت کی عورتیں سخت  احتجاج کر رہی ہیں ، سوشل میڈیا پر ماتم برپا ہے اور انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹس دہلی کی لڑکیوں کے غصے سے بھرے احتجاجوں پر ویڈیو  رپورٹیں  نشر کر رہی ہیں، دوسری طرف بھارت کے پنجاب کے شہر  پھگواڑہ میں ایک پرائیویت یونیورسٹی میں سترہ سال کی بچی کے ریپ کی مبینہ افواہ پھیل گئی جس کے نتیجے مین دہلی کے پر امن احتجاج کے برعکس شدید پرتشدد احتجاج کی لہر چل پڑی ہے۔

بی بی سی اردو نے آج  30 ستمبر کو یہ  پوسٹ کیا کہ  پنجاب کی ایل پی یو یونیورسٹی کی جس  سترہ سال کی لڑکی کے ریپ کی "افواہ” پھیلائی جا رہی ہے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کون ہے۔  بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں یہ تاثر دیا کہ سترہ سال کی لڑکی کے ریپ کی افواہ پر پر تشدد احتجاج ہو رہے ہیں۔ 

بی بی سی نے اپنی اس "رپورٹ” میں لکھا کہ (ایل پی یو) یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، تاہم اس سے ان طلبہ کو زیادہ اطمینان نہیں ملا جن کے ہاسٹل چند ہی گھنٹوں میں خالی ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اہم امتحانات ملتوی کر دیے گئے اور طلبہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

بی بی سی اردو نے اپنی اس رپورٹ میں لکھا،   یہ بے امنی 27 ستمبر کے ابتدائی لمحات میں اس وقت شروع ہوئی، جب یہ خبر پھیلی کہ چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے اندر یا اس کے قریب ایک طالبہ کا ریپ کیا گیا تھا۔

news 1790794796 4273

بی بی سی پنجابی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بی بی سی پنجابی کو معلوم ہوا ہے کہ اس الزام کے بارے میں پیغامات واٹس ایپ گروپس کے ذریعے گردش کر رہے تھے اور جیسے جیسے یہ پیغامات پھیلتے گئے، ہجوم جمع ہونا شروع ہوتا گیا۔
بالآخر سینکڑوں افراد نیشنل ہائی وے 44 پر نکل آئے، جو دہلی اور پنجاب کے درمیان ایک اہم شاہراہ ہے اور 15 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ٹریفک معطل رہی۔
اتوار کی شام تک یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا جا چکا تھا، اشیا کو آگ لگا دی گئی تھی اور پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر لاٹھیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا، اگرچہ پولیس نے بعد میں لاٹھی چارج کرنے کی تردید کی۔
کیمپس کے دروازوں کے پیچھے ایک طالبہ نے خوف کی ایک رات کا احوال بیان کیا۔
آریا نامی ایک طالبہ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا ’ہم چاقو اور قینچیاں لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔‘
ان کے مطابق طلبہ کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے کمروں کے اندر خود کو بند کر لیں، جبکہ لوگ ان کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔
’ہم صرف یہ سوچ رہے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ رات گزر جائے اور ہم یہاں سے نکل سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ بعد میں پولیس پہنچی اور اس سے انھوں نے خود کو زیادہ محفوظ محسوس کیا۔ اگلے دن تک وہ وہاں سے جانا چاہتی تھیں۔
’ہمارے والدین بھی چاہتے ہیں کہ ہم بس یہاں سے نکل جائیں۔‘
آریا کا کہنا ہے کہ تشدد والی رات ان کے ذہن میں کیمپس چھوڑنے کے سوا کوئی اور خیال نہیں تھا
کوئی ریپ نہیں ہوا تب بھی پولیس نے مقدمہ کیوں درج کیا؟
پولیس کی جانب سے مقدمے کا اندراج اور الزام کی تحقیقات کرنا مظاہرین کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔
سینئر پولیس افسر نوین سنگلا نے بی بی سی کو بتایا ’طلبہ کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر درج کی جائے، لیکن طلبہ ہمیں کسی متاثرہ خاتون کا نام فراہم نہیں کر سکے۔‘
تاہم پولیس نے اس کے باوجود انڈیا کے ریپ کے قانون کے تحت ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ ایف آئی آر باضابطہ طور پر کسی الزام کی تحقیق کے ریکارڈ کا ثبوت ہوتی اور یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتی کہ کوئی جرم واقع ہوا ہے۔
سنگلا نے کہا کہ تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی جانچ میں اب تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ کوئی باہر کا شخص کسی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ریپ ہوا ہے یا نہیں۔‘ تاہم وہ فوٹیج کا جائزہ اب بھی لے رہے ہیں۔
پولیس افسر نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ’کیمپس کافی بڑا ہے، اس لیے ہم ابھی تک تمام کیمروں کی فوٹیج نہیں دیکھ سکے ہیں۔ ہم نے ابتدائی طور پر ان مقامات کی جانچ کی ہے جن کا طلبہ نے ذکر کیا تھا، لیکن ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔‘
احتجاج کرنے والے طلبہ نے اس سے قبل ایک قریبی شاہراہ کو بند کر دیا تھا، جسے بعد میں پیر کے روز دوبارہ کھول دیا گیا
پھگواڑہ احتجاج کیسے شروع ہوئے؟
جو معاملہ ریپ کے ایک الزام سے شروع ہوا تھا، وہ جلد ہی سکیورٹی، یونیورسٹی کے ردِعمل اور بالآخر خود تشدد کے خلاف ایک وسیع تر احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔
اس بارے میں بھی بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتحال تھی کہ کیمپس میں موجود افراد کون تھے۔ بعض طلبہ کا اصرار تھا کہ مظاہرے پُرامن انداز میں شروع ہوئے تھے اور انھوں نے کم از کم بعض پرتشدد واقعات کا ذمہ دار بیرونی افراد کو قرار دیا۔ دیگر طلبہ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ انھوں نے یونیورسٹی کے اندر نقاب پوش یا اجنبی افراد کو دیکھا تھا۔
پون نامی ایک طالب علم کہتے ہیں کہ ’ہم واقعی بہت خوفزدہ تھے۔ یہ مقام مکمل طور پر میدانِ جنگ بن گیا تھا۔‘
ایک اور طالب علم انیکیت سنگھ نے کہا کہ بیرونی افراد خواتین کے ایک ہاسٹل میں داخل ہو گئے تھے اور پولیس اہلکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے تصدیق کی کہ ہجوم میں بیرونی افراد بھی شامل تھے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کون تھے اور ان کا کردار کیا تھا۔
اسی افراتفری کے دوران ریپ کے الزام کی تردید کرنے کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی کوشش نے خود ایک نئی تنازعہ کی صورت اختیار کر لی۔
پیر کے روز ایل پی یو نے ہاسٹل کے اس کمرے میں رہنے والی تین طالبات کی ایک ویڈیو جاری کی، جسے مبینہ ریپ کے واقعے سے جوڑا جا رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہاں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور لوگوں سے اپیل کی کہ انہیں پریشان کرنا بند کریں۔
بعد ازاں ان ہی طالبات نے ایک اور ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ کیا کہنا ہے، ریکارڈنگ میں ترمیم کی گئی تھی اور اسے ان کی اجازت کے بغیر شائع کیا گیا تھا۔
ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایل پی یو نے طالبات کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
احتجاج کے دوران گردش کرنے والے ایک اور دعوے میں مبینہ ریپ کے واقعے کو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی ایل پی یو کی ایک طالبہ کی حالیہ خودکشی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طالبہ کی موت کی تحقیقات پہلے ہی شروع کی جا چکی تھیں اور دونوں واقعات کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ