ڈیجیٹل صحافیوں کی پہچان پر کیوں اٹھا سوال

Jantar Mantar Protest 1


تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا

جنتر منتر پر احتجاج کی کوریج کر  رہے متعدد صحافیوں کو پولیس کی جانب سے روکے جانے اور حراست میں لیے جانے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ کچھ صحافیوں سے پی آئی بی کارڈ بھی مانگا گیا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پی آئی بی کارڈ صحافی ہونے کا لائسنس ہے؟ جواب ہے – نہیں۔

نئی دہلی:جنتَر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی کا سامنا صرف مظاہرین کو ہی نہیں کرنا پڑا۔ متعدد صحافیوں کو بھی پولیس نے روکنے، وہاں سے ہٹانے اور حراست میں لینے کی کوشش کی۔ ان میں خصوصی طور پر آزاد اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافی شامل تھے۔

اس دوران سامنے آئے کئی ویڈیو میں صحافی پولیس کو اپنا پریس کارڈ دکھاتے نظر آ رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ بعض معاملوں میں صحافیوں کو پولیس کی گاڑیوں میں لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

ایک ویڈیو میں ڈیجیٹل میڈیا کے صحافی محمد ایان پولیس اہلکاروں کو اپنا پریس کارڈ دکھاتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان سے پوچھا جاتا ہے—’پی آئی بی کارڈ ہے؟‘ اس کے بعد انہیں پولیس کی گاڑی کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس سے قبل دی وائر کے صحافی محمد عرفان سے بھی پولیس نے پی آئی بی کارڈ دکھانے کو کہا تھا۔

ایک اور ویڈیو میں جن چوک سے وابستہ کچھ صحافیوں کو پولیس نے جنتَر منتر کے پاس کناٹ پلیس میں روکا۔ صحافی بار بار اپنا آئی ڈی دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ صرف احتجاج کی کوریج کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس انہیں وہاں سے ہٹاتی نظر آتی ہے۔

مکتوب میڈیا کی صحافی فدا فاطمہ اور جبران الدین کو بھی احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے روکے جانے اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ دھکا مکی کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اعظم گڑھ کے صحافی راجیو تلوار کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک بس میں دھکیلے جانے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔

ان واقعات کے علاوہ آزاد صحافی ہرش یادو کو بھی پولیس نے مبینہ طور پر دھکا دیا۔ وہ پولیس کو اپنا پریس کارڈ دکھاتے ہوئے خود کو صحافی بتا رہے تھے۔

کیا پی آئی بی کارڈ صحافی ہونے کا لائسنس ہے؟

ایک جملے میں اس کا جواب ہے-پی آئی بی کارڈ ایسا کوئی لائسنس نہیں ہے جو یہ طے کرے کہ کون صحافی ہے اور کون نہیں۔ لیکن ان واقعات کے درمیان یہ سوال ضرور پیدا ہو گیا ہے کہ کیا کسی صحافی کی پہچان کے لیے پی آئی بی کارڈ کا ہونا ضروری ہے؟

سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن گائیڈ لائنز، 2022کے مطابق، پی آئی بی کی منظوری کسی صحافی کو کوئی ’خصوصی حیثیت‘ نہیں دیتی، بلکہ اسے پیشہ ورانہ طور پر کام کرنے والے صحافی کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

Screenshot 2026 10 04 at 5.19.44 PM 1300x525 1
سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن گائیڈ لائنز، 2022

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر صحافی کے پاس پی آئی بی کارڈ ہونا ضروری ہے۔ ملک میں بڑی تعداد میں ایسے صحافی ہیں جو اپنے ادارے کے پریس کارڈ، شناختی کارڈ یا اسائنمنٹ کی بنیاد پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

جنتر منتر پر سامنے آنے والے ویڈیو سے بھی یہی سوال اٹھتا ہے۔ جب کوئی صحافی اپنے ادارے کا پریس کارڈ یا شناختی کارڈ دکھا کر یہ بتا رہا ہو کہ وہ احتجاج کی رپورٹنگ کر رہا ہے، تو کیا صرف پی آئی بی کارڈ نہ ہونے کی بنیاد پر اس کی صحافی کے طور پر پہچان کو مسترد کیا جا سکتا ہے؟

پی آئی بی کارڈ کا مطالبہ نامناسب کیوں؟

کسی عوامی احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے صحافیوں سے پی آئی بی کارڈ مانگنا اور کارڈ نہ دکھانے پر انہیں کوریج سے روکنا یا حراست میں لینا کیوں سوال پیدا کرتا ہے، اسے سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پی آئی بی سے منظوری کیسے ملتی ہے اور اس کے لیے کیا شرائط ہیں۔

عام زمرے میں پی آئی بی سے منظوری حاصل کرنے کے لیے کسی رپورٹر یا کیمرہ پرسن کے پاس کم از کم پانچ سال کا کُل وقتی صحافت کا تجربہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی صحافی فری لانسر کے طور پر درخواست دیتا ہے تو اس کے پاس 15 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی بی کی منظوری صرف دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں-نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، فریدآباد، بہادرگڑھ، غازی آباد اور گروگرام-میں رہنے والے صحافیوں کے لیے ہے۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جس صحافی کے پاس پی آئی بی کی منظوری کے لیے مطلوبہ تجربہ نہیں ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی احتجاج کی رپورٹنگ نہیں کر سکتا؟ اور اگر وہ رپورٹنگ کرتا ہے تو کیا صرف پی آئی بی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اسے کوریج سے روک سکتی ہے یا حراست میں لے سکتی ہے؟

یہی سوال ان صحافیوں کے معاملے میں بھی اٹھتا ہے جو دہلی-این سی آر سے باہر رہتے ہیں۔ پی آئی بی کی منظوری کے لیے مقررہ جغرافیائی حدود میں نہ آنے والے صحافیوں کے پاس پی آئی بی کارڈ نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ وہ صحافی کسی عوامی احتجاج یا دیگر اہم واقعات کی رپورٹنگ ہی نہ کریں۔

اس کے علاوہ پی آئی بی کی منظوری کے لیے درخواست دینے کا عمل بھی محض آئی کارڈ حاصل کرنے کی رسمی کارروائی نہیں ہے۔ درخواستوں کی جانچ سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن کمیٹی کے تحت ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر پی آئی بی درخواست گزار سے اضافی دستاویز اور معلومات طلب کر سکتا ہے۔ منظوری عام طور پر ایک سال کے لیے دی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کی تجدید کرانی ہوتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ 2022 کی سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن گائیڈ لائنز یہ بھی کہتی ہیں کہ کمیٹی کی جانب سے منظوری کے لیے منظور کی گئی درخواستوں کو پولیس تصدیق کے لیے بھیجا جائے گا۔ پی آئی بی کا منظوری کارڈ صرف پولیس افسران کی اطمینان بخش رپورٹ اور حکومت ہند کی وزارت داخلہ کی رضامندی حاصل ہونے کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔


ایک اور اہم تبدیلی ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق ہے۔ چند سال پہلے تک آن لائن میڈیا کے صحافیوں کے لیے پی آئی بی کی منظوری کا نظام واضح طور پر موجود نہیں تھا۔ لیکن 2022 کی سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن پالیسی میں ڈیجیٹل نیوز پبلشرز کو بھی منظوری کے اہل زمرے میں شامل کیا گیا۔ اس کے لیے ویب سائٹ کے آپریشن، قارئین کی تعداد اور صحافیوں کے تجربے سمیت کئی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔

Screenshot 2026 10 04 at 5.51.55 PM
سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن گائیڈ لائنز، 2022

اس لیے جنتر منتر کے واقعہ میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ پی آئی بی کارڈ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی آئی بی کارڈ کو کسی صحافی کی شناخت طے کرنے کا لازمی معیار بنایا جا سکتا ہے؟ اگر کسی صحافی کے پاس اپنے ادارے کا پریس کارڈ ہے، وہ خود کو صحافی کے طور پر متعارف کرا رہا ہے اور عوامی احتجاج کی رپورٹنگ کر رہا ہے، تو صرف پی آئی بی کارڈ نہ ہونے کی بنیاد پر اسے صحافی تسلیم کرنے سے انکار کرنا کس بنیاد پر درست ہے؟

صحافیوں کو منظوری دینے والی کمیٹی میں کون کون ہے؟

پی آئی بی کی جانب سے صحافیوں کو منظوری دینے کا کام ایک کمیٹی کرتی ہے، جسے سینٹرل پریس ایکریڈیٹیشن کمیٹی(سی پی اے سی)کہا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے آخری بار 2018 میں اس کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں معلومات عوامی کی گئی تھیں اور اس وقت اس پر سخت تنقید بھی ہوئی تھی۔


وزارت اطلاعات و نشریات نے 21 مارچ 2018 کو جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا تھا کہ سی پی اے سی کی صدارت پی آئی بی کے پرنسپل ڈائریکٹر جنرل کرتے ہیں۔ کمیٹی میں پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے علاوہ دینک جاگرن کے پرشانت مشرا، ٹائمز ناؤ کی نویکا کمار، اے بی پی نیوز کے کنچن گپتا، دی پائنیر کے جے گوپی کرشنن اور اے این آئی کی اسمتا پرکاش کو رکن بنایا گیا تھا۔ کمیٹی کے ارکان کی مدت کار دو سال ہوتی ہے اور اسے ہر سہ ماہی یا ضرورت کے مطابق اس سے زیادہ مرتبہ بیٹھک کرنی ہوتی ہے۔


تاہم، اس کمیٹی کی تشکیل نو کے بعد صحافتی تنظیموں نے اس کی ساخت پر اعتراض کیا تھا۔ 23 مارچ 2018 کو شائع نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈین جرنلسٹس یونین، پریس ایسوسی ایشن، ورکنگ نیوز کیمرا مین ایسوسی ایشن اور نیشنل یونین آف جرنلسٹس (انڈیا) نے مشترکہ بیان جاری کر کے کہا تھا کہ نئی کمیٹی میں صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

ان تنظیموں نے کمیٹی کو تحلیل کر کے تمام صحافتی تنظیموں کو نمائندگی دیتے ہوئے نئی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ پہلی بار پی آئی بی نے کمیٹی میں صحافیوں کو اپنی پسند کی بنیاد پر منتخب کر کے شامل کیا ہے اور کام کرنے والے صحافیوں کی اجتماعی آواز کو کمیٹی میں جگہ نہیں ملی ہے۔

صحافتی تنظیموں نے یہ بھی کہا تھا کہ کمیٹی کی ایسی ساخت سے حکومت کی جانب سے صحافیوں کو منظوری دینے یا نہ دینے کے عمل میں اس کے اثر و رسوخ کے حوالے سے تشویش پیدا ہوتی ہے اور یہ آزاد صحافت کے لیے مسئلہ ہے۔

پی آئی بی کارڈ اور پریس کارڈ میں فرق

یہاں پی آئی بی کارڈ اور کسی میڈیا ادارے کے پریس کارڈ کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پریس کارڈ عام طور پر کسی میڈیا ادارے کی جانب سے اپنے صحافی کو دیا جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ متعلقہ شخص اس ادارے کے لیے صحافی کے طور پر کام کرتا ہے۔

پی آئی بی کارڈ مرکزی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایک الگ منظوری ہے۔ اس کا استعمال بنیادی طور پر سرکاری معلومات اور بعض سرکاری احاطوں تک صحافیوں کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ سرکاری گائیڈ لائنز خود کہتی ہیں کہ یہ کوئی خصوصی یا سرکاری حیثیت نہیں ہے۔

حالیہ واقعات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ جنتر منتر پر بڑی تعداد میں ایسے صحافی احتجاج کی کوریج کر رہے ہیں جو آن لائن میڈیا، چھوٹے آزاد پورٹل یا آزاد صحافیوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ایسے میں ’پی آئی بی کارڈ ہے؟‘ کا سوال صرف ایک شناختی کارڈ کا سوال نہیں رہ جاتا۔ یہ اس بدلتی ہوئی میڈیا کی دنیا کا سوال بھی ہے، جس میں صحافت اب صرف اخبار اور ٹیلی ویژن تک محدود نہیں ہے اور بڑی تعداد میں صحافی ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے گراؤنڈ سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

تاہم، ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اخبار یا ٹی وی میں کام کرنے والے تمام صحافیوں کے پاس پی آئی بی کارڈ ہو، یہ بھی ضروری نہیں ہے۔

تین خاتون صحافیوں کی شکایت

صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے کا یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین خاتون صحافیوں نے احتجاج کی کوریج کے دوران پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں۔

دہلی پولیس نے ان  شکایتوں کو جانچ کے لیے کرائم برانچ کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ 3 اکتوبر کو احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کے درمیان خاتون صحافیوں نے پولیس افسران پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے اور ان کی شکایتوں کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے کرائم برانچ بھیج دیا گیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ