ہیگ: ڈچ کابینہ نے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسکول کے اوقات میں طلبہ کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کریں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یکم جنوری ۲۰۲۷ء سے مجوزہ اقدام کے تحت طلبہ کو کلاس رومز، اسمبلیوں، وقفوں اور اسکول کے احاطے میں فون اپنے پاس سے دور رکھنا ہوگا۔
کابینہ کے پاس فی الحال ملک گیر پابندی نافذ کرنے کا قانونی اختیار نہیں، تاہم وہ تعلیمی شعبے کو سفارشات جاری کر سکتی ہے۔ یہ تجویز بچوں کو حد سے زیادہ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں کے خطرات سے بچانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق لت لگانے والے الگورتھمز، آٹو پلے ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے باعث نوجوانوں کیلئے اسکرین ٹائم کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت اس سے قبل ۲۰۲۴ء میں اسباق کے دوران فون کے استعمال کو محدود کرنے کے قومی معاہدوں پر پہنچ چکی ہے۔
کابینہ بچوں کے آن لائن تحفظ کیلئے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ بھی کر رہی ہے، جن میں سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے کم از کم عمر کی حد شامل ہے۔ یورپی کمیشن ۱۳ سال کی حد پر غور کر رہا ہے، جبکہ ڈچ حکومت نے ۱۵ سال کی تجویز دی ہے۔
علاوہ ازیں حکومت فیملی ولاگرز اور چائلڈ انفلوئنسرز کیلئے بھی سخت قواعد تیار کر رہی ہے۔ مجوزہ قوانین کے تحت ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کے تیار کردہ آن لائن مواد کو چائلڈ لیبر کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے، اور اس پر سزائیں اور جرمانے عائد ہو سکتے ہیں۔

