واشنگٹن/تل ابیب، ): اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں نئے تنازع کے احتمال کے پیش نظر آئندہ چند ہفتوں میں مزید امریکی فوجی اور طیارے اسرائیل بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت تقریباً 3 ہزار امریکی فوجی اسرائیل میں تعینات ہیں۔
اسرائیلی ویب سائٹ "والا” نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ اہلکار ایئر ڈیفنس سسٹمز چلانے سمیت مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں پائلٹ، سپورٹ عملہ، لاجسٹک یونٹس اور کمانڈ اینڈ اسٹاف شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج حالیہ ہفتوں میں اسرائیل میں موجود اپنی فورسز کی تبدیلی کر رہی ہے اور نقل و حرکت کا ایک حصہ تعیناتی کی مدت مکمل ہونے پر معمول کی تبدیلیوں پر مبنی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازع بڑھنے کی تیاری کے تحت آنے والے ہفتوں میں مزید امریکی فوجی اور فوجی طیارے پہنچیں گے۔
رپورٹ میں اضافے کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ ممکنہ نئے تصادم کا اندیشہ بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق امریکی معاشی پابندیاں تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار کے مطابق اسرائیل کے حریف اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وسیع تصادم کے بغیر اسرائیل کے داخلی منظرنامے پر اثر انداز ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے ساتھ تصادم شدید کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور ایرانی تنصیبات پر کئی حملے کر سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل یا اردن کی طرف میزائل داغے جانے کے امکان کے پیش نظر اسرائیلی فوج اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) باہمی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔
دونوں افواج کی آپریشنل منصوبہ بندی اس پر مرکوز ہے کہ اگر تہران سے دوبارہ بیلسٹک میزائل داغے گئے تو ایران کے اندر جوابی حملے اور اہداف پر کارروائی کی جائے۔ یہ فوجی توسیع ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ان سفارتی اشاروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے تہران میں کہا تھا کہ ایران سفارتی سمجھوتوں کے لیے تیار ہے۔
ستمبر کے آخر میں تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 7 شرائط امریکہ کو پہنچائی تھیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا اندازہ ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری لڑائی خلیجی سیکیورٹی شراکت داری کی مساوات بدل سکتی ہے۔ حکام نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے تعاون کا ذکر کیا۔ ایک سینئر اہلکار نے خبردار کیا کہ جو علاقائی ممالک حوثی فورسز کا فوری مقابلہ نہیں کریں گے، وہ بعد میں حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

