صنعا): یمنی فوج نے حوثی تحریک کے خلاف جاری بڑی کارروائی کے دوران اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب ذباب کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یمنی فوجی حکام اور علاقائی ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
یمن کے صدر اور صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے اتوار کو "ڈان آف یمن” کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کی بحالی، صنعا کو آزاد کرانا اور بغاوت کا خاتمہ کرنا ہے۔ پیر کو العلیمی نے کہا کہ قوم کی قوت ارادی، فوج کی بہادری اور بھائیوں کی حمایت سے یمن ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔
سرکاری فوج کہبوب کے پہاڑی علاقے سے ذباب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے، جبکہ دیگر دستے مغربی ساحل کے ساتھ شمال میں المخا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق باب المندب اور میون جزیرے کے اطراف حوثی فورسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ تازہ حملے سیاسی قیادت کی ہدایات پر کیے گئے اور فوج منظور شدہ منصوبوں کے مطابق مختلف محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق صعدہ، الجوف اور تعز میں حوثیوں کے بنیادی ڈھانچے کے 1122 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میدانی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں 1747 جنگجو غیر مؤثر ہوئے اور 364 فوجی گاڑیاں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے یونٹس تباہ یا ناکارہ بنا دیے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے حوثیوں سے ریاستی اداروں کو واپس لینے اور ان کی بغاوت ختم کرنے کے لیے "آزادی کی جنگ” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حملے کے باعث تعز میں لڑائی شدید ہو گئی ہے، جو شمال کے حوثی زیر قبضہ علاقوں کو جنوب میں حکومتی کنٹرول والے علاقوں سے جوڑنے والا اہم صوبہ ہے۔

