پیرس،
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانسیسی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں پھیلتے طلبہ کے احتجاج پر پولیس کے ”غیر متناسب“ ردِعمل کو روکیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل فرانس کی سربراہ این سیوینیل باراس نے پیر کو کہا کہ طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں، اس لئے حکام ان کی سلامتی یقینی بنائیں اور پرامن مظاہرے کے حق کو تحفظ اور سہولت دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ردِعمل قانونی، ضروری اور متناسب ہونا چاہئے اور طاقت کا غیرضروری یا ضرورت سے زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے کی ویڈیوز آنسو گیس، لاٹھیوں اور قابو پانے کی تکنیکوں کے استعمال پر ”تشویشناک خدشات پیدا کرتی ہیں۔“ مبینہ طور پر آنسو گیس کے گرینیڈ لاپرواہی سے داغے گئے اور ربڑ کی گولیوں سے شدید چوٹیں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ترجیح کشیدگی میں کمی ہونی چاہئے۔“
وزیرِ تعلیم ایڈورڈ جیفری کے مطابق ستمبر کے وسط میں پیرس خطے میں تعلیمی حالات پر احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ۱۹۰ طلبہ زخمی ہو چکے ہیں۔ پیر کو بھی ملک بھر میں مظاہرے جاری رہے اور ۵۸۹ تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔ بی ایف ایم ٹی وی کے حوالے سے ایک عدالتی ذرائع نے بتایا کہ تحریک شروع ہونے کے بعد سے ۵۰۶۰ افراد حراست میں لئے جا چکے ہیں، جن میں ۸۷ فیصد نابالغ ہیں۔
فرانسیسی ہیومن رائٹس لیگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ”قانون کی حکمرانی سے انحراف“ کا الزام لگایا اور کہا کہ پولیس مداخلت کے دوران قانونی معیارات کا احترام کرنے میں ناکام رہی۔ قومی پولیس کے جنرل انسپکٹوریٹ نے مظاہروں سے جڑے واقعات پر پانچ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو بحران کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پانچ تجاویز پیش کی ہیں اور اکتوبر کے اختتام سے قبل فیصلوں کی اپیل کی ہے۔ طلبہ مزید وسائل، اسکولوں کی عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال، کلاسوں میں کم طلبہ اور عملے کی کمی دور کرنے کے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

