علامتی تصویر: پی ٹی آئی
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران اپیلوں کی شنوائی کے لیے تشکیل دیے گئے ٹریبونلوں کے 19 ججوں میں سے کم از کم 12 نےای سی آئی نیٹ پورٹل کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ ریاست میں 27 لاکھ ووٹر ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو پائے تھے، جن میں سے 22 لاکھ نے ٹریبونلوں سے رجوع کیا تھا۔ ججوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پورٹل سے متعلق مسائل کو ٹھیک کرنے کی ان کی درخواستوں پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
نئی دہلی: مغربی بنگال میں ایس آئی آرکے دوران اپیلوں کی شنوائی کے لیے تشکیل دیے گئے ٹریبونلوں کے 19 ججوں میں سے کم از کم 12 نے اگست میں ای سی آئی ئی پورٹل کے حوالے سے شکایت کی تھی۔
غور طلب ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ان ٹریبونلوں کو ان اپیلوں کی شنوائی کرنی تھی، جن میں ان ووٹر کے معاملے بھی شامل تھے، جن کے نام اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ اس کام کے لیے یہ پورٹل بے حد اہم تھا۔ ان ججوں کا کہنا تھا کہ پورٹل متوقع طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے۔
ریاست میں 27 لاکھ ووٹر ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو پائے تھے، جن میں سے 22 لاکھ نے ٹریبونلوں سے رجوع کیا۔ ججوں نے یہ بھی بتایا کہ پورٹل سے متعلق مسائل کو دور کرنے کی ان کی درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک ٹریبونل نےای سی آئی نیٹ پورٹل کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اگر ٹریبونل فریقین کی سماعت کرنا چاہے تو پورٹل میں ورچوئل سماعت کی کوئی سہولت نہیں ہے۔‘ اخبار کی یہ رپورٹ 11 اگست کو ہونے والے ٹریبونل کے اجلاس کی کارروائی کے ان منٹس پر مبنی ہے، جنہیں اخبار نے دیکھا ہے۔
اس کے علاوہ، ایک بار کسی ووٹر کا نام ہٹا دیے جانے یا ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے جانے کے بعد، ٹریبونل چاہنے کے باوجود اسے پورٹل پر بحال نہیں کر سکتا تھا۔ ٹریبونل اس پورٹل کے ذریعے درخواست گزاروں کو اپنے حکم نامے کی کاپی بھی دستیاب نہیں کرا پا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، مئی میں ہی 19 ٹریبونل ججوں میں سے ایک نے کلکتہ ہائی کورٹ کو خط لکھ کر اس بات کواجاگر کیا تھا کہ اپیل میں شامل فریقین کو نوٹس بھیجنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ جج نے کہا تھا کہ اس خامی کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سےمعاملوں کے تصفیے کا عمل سست ہو رہا ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران مارچ میں سپریم کورٹ کے حکم پر 19 ٹریبونل تشکیل دیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ججوں کے لیے یہ پورٹل تیار کیا تھا، تاکہ وہ جن ووٹر کے معاملوں پر فیصلہ کر رہے ہیں، ان کے نام شامل کرنے، جائزہ لینے،ہٹانے یا دیگر کارروائیوں کے علاوہ دوسرے کام بھی انجام دے سکیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 19 میں سے تقریباً 12 ججوں نے کہا تھا کہ یہ پورٹل کام نہیں کر تا۔
اخبار نے کہا، ’ سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ججوں نے شکایت کی تھی کہ پورٹل انہیں فریقین کو نوٹس بھیجنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، جس کی وجہ سے اپیلوں کے تصفیے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ یہ ٹریبونلوں کو اپیل کرنے والے ووٹر کے اضافی دستاویز اپلوڈ کرنے، ورچوئل شنوائی کرنے یاہٹائے گئے ووٹر کا نام بحال کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا۔ یہاں تک کہ اپیل کنندگان ٹریبونل کے احکامات بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکتے تھے۔‘
اس کے علاوہ، انڈین ایکسپریس نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ دو الیکشن کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے ای سی آئی نیٹ ڈیجیٹل نظام کے غیر مؤثر طریقے سے کام کرنے پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کے مطابق، اس نظام نے رسائی اس طرح محدود کر دی تھی کہ ووٹر لسٹوں کو حتمی شکل دینے کے ذمہ دار افسران اس میں ترمیم تک نہیں کر پا رہے تھے۔
ستمبر کے اواخر میں کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ ای سی آئی نیٹ کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیٹی تشکیل دے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ ٹریبونل کے ججوں کی جانب سے پورٹل کی خامیوں پر اٹھائے گئے خدشات کے حوالے سے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خدشات سے ’الیکشن کمیشن اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔‘ یعنی ستمبر میں ای سی آئی نیٹ کی خامیوں کے حوالے سے رپورٹ سامنے آنے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو ان مسائل کی جانکاری دی گئی تھی۔
اگست میں ججوں نے یہ خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا،’آج تک کوئی سسٹم نہیں ہے… متعدد درخواستوں اور یاد دہانیوں کے باوجود پورٹل پر فریقین کو براہ راست یا مناسب ذرائع سے نوٹس بھیجنے کے لیے کوئی مشترکہ اور سسٹم تیار نہیں کیا گیا ہے۔‘
ایک اور تشویش میں کہا گیا،’جب ٹریبونل یہ پاتا ہے کہ اپلوڈ کیے گئے دستاویزفارم کے مطابق نہیں ہیں، یا جب ٹریبونل کو اضافی دستاویز کی ضرورت ہوتی ہے، تو انہیں حاصل کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔‘
اس کے نتیجے میں متعلقہ ٹریبونل نے ای میل کے ذریعے دستاویز منگوانے کا سہارا لیا، لیکن یہ طریقہ بھی مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ اپریل میں مغربی بنگال کی ووٹر موستاری بانو، جنہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، کو ایک سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اپیل اسی سی آئی نیٹ کے ذریعے آن لائن یا انتخابی افسران کے ذریعے ذاتی طور پر داخل کی جا سکتی ہے۔ ان افسران کو کاغذی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں درج کرنا تھا۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل اس لحاظ سے مختلف تھا کہ اس میں ٹریبونل کے ساتھ ساتھ عدالتی افسران کا بھی کردار تھا۔ فروری میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان عدالتی افسران کی تقرری کی گئی تھی۔ ان افسران نے کمیشن کے سافٹ ویئر سسٹم کے ذریعےہٹائے گئے 60 لاکھ ووٹرز کے ریکارڈ کی جانچ کی تھی۔ اس سافٹ ویئر نے ان ووٹر کے نام ہٹا دیے تھے، جن کے اندراجات میں ’منطقی تضادات‘ پائے گئے تھے۔
آخرکار 27 لاکھ ووٹر کے معاملے ٹریبونلوں کے لیے چھوڑنے پڑے، جس کے بعد عدالت نے ایک مہینےبعد ان ٹریبونلوں کی تشکیل کا حکم دیا۔ یہ نظام اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ زیر التوا معاملوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ باقاعدہ عدالتوں کے لیے ان کی سماعت کرنا ممکن نہیں تھا۔ تاہم، پورے عمل کی نگرانی کلکتہ ہائی کورٹ کر رہا تھا۔
ٹریبونل کے سست کام کاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان کے سامنے آنے والی اپیلوں میں زیادہ تر معاملوں میں ووٹر کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں بحال کیے گئے ہیں۔ ایسے میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ جن ووٹر کو سماعت کا موقع نہیں مل سکا، انہوں نے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریاست میں حال ہی میں ہوئے دوسیٹوں کے ضمنی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق بھی کھو دیا۔

