
(ویب ڈیسک) اسرائیل کو جینوسائیڈ کا مجرم قرار دینے والی خاتون جج کو امن کا نوبیل پرائز ملنے کا اعلان ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی عدالت انصاف کے خلاف سخت ترین اقدام کر ڈایا۔
امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور اس انٹرنیشنل فورم کی تمام کارروائیوں کو مفلوج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ شدید ترینانتقامی کارروائئی آئی سی سی کی سابق آئی سی سی جج نوئی پلے کو نوبل پیس پرائز کے لئے منتخب کئے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو اعلان کیا کہ واشنگٹن اس عدالت کے ساتھ تمام تر مالی و تجارتی لین دین پر پابندی عائد کر رہا ہے، جسے انہوں نے ایک ’خودسر عدالت‘ قرار دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دی ہیگ میں قائم اس عالمی عدالت کے خلاف جاری طویل مہم میں یہ سب سے شدید ترین اقدام ہے۔
مارکو روبیو نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ’یا تو آئی سی سی اپنی دھمکیاں بند کرے، یا پھر ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے۔‘
نوئی پلے اس وقت کیا عہدہ رکھتی ہیں؟
نوئی پلے بنیادی طور پر ایک تجربہ کار بین الاقوامی قانون دان اور سابق جج ہیں۔ اس وقت وہ میانمار کے خلاف روہنگیا نسل کشی کے مقدمے میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی ایڈہاک جج کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
اس سے پہلے وہ 2008ء سے 2014ء تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی دہشتگردوں کی سپورٹ کرنے کیلئے خیبر گئے، گورنر فیصل کریم کنڈی
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عالمی ادارہ امریکی خودمختاری کی قیمت پر اپنے اختیارات اور طاقت میں مسلسل اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
نوبیل پیس پرائز اور امریکہ کاعجیب مؤقف
امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام بالکل اسی دن سامنے آیا جب نارویجن نوبل کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی 85 سالہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے، مرکز، 8 فروری 2011 کو یروشلم میں یاد واشم ہولوکاسٹ کی یادگار کا دورہ کر رہے ہیں قانون دان نوی پلے کو نوبل امن انعام سے نوازا۔
نوی پلے روانڈا جنوسائیڈ ٹربیونل کی سربراہ رہیں، بعد میں وہ آئی سی سی کی جج اور اس کے بعد اقوام متحدہ کے اس کمیشن کی سربراہ بنیں جس نے اسرائیل پر غزہ میں جینوسائیڈ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔
نوی پلے نے نوبیل پرائزملنے کے بعد عدالت پر بڑھتے ہوئے سیاسی حملوں پر تشویش ظاہر کی تھی، تاہم مارکو روبیو کے بیان میں نوی پلے یا نوبل انعام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں امریکی سیکیورٹی اہلکاروں اور منتخب عہدیداروں کو اس عدالت کی جانب سے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے ضروری تھیں، جس کا امریکہکبھی رکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کبھی بھی آئی سی سی کو امریکی شہریوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
نوئی پلے نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے 1 سال سے زیادہ عرصے تک عدالت کے سامنے حسنِ نیت کے اقدامات رکھے اور اس امید پر فیصلے کو روکے رکھا کہ آئی سی سی یا اس کے رکن ممالک اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے، مگر امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے کوئی ’معنی خیز قدم‘ نہیں اٹھایا گیا۔
امریکہ کے اتحادیوں کو انتباہ
مارکو روبیو نے ان امریکی اتحادیوں کو بھی واضح انتباہ جاری کیا جو آئی سی سی کے رکن ہیں اور اپنے دفاع کے لیے امریکی فوج پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اس ادارے کو لگام دیں، ورنہ واشنگٹن اس عدالت کو ’اینٹ سے اینٹ بجا کر‘ ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ اور اسرائیل (جو کہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے) کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر اور متعدد ججوں پر انفرادی پابندیاں عاید کی تھیں۔ گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی سی سی کے تمام 125 رکن ممالک سے اس ادارے سے الگ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ’بے قابو‘ اور ’خودسر ادارہ‘ قرار دیا تھا۔
عالمی عدالتِ انصاف کا ردعمل
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں رد کر دیا اور اپنے ردعمل میں خبردار کیا کہ ’تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔‘
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے دوران نوشہرہ میں خارجیوں نے تین پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا
عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر شدید ضرب ہیں، جو اس بنیادی اصول کو نشانہ بناتی ہیں کہ کوئی بھی شخص یا ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
آئی سی سی نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد عملے کو ڈرانا دھمکانا اور سرگرمیوں میں خلل ڈالنا ہے، لیکن عدالت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے نے کہا کہ ’عدالت اپنا نفاذِ قانون کا مینڈیٹ مکمل آزادی، غیر جانبداری، اور صرف قانون و ثبوت کی بنیاد پر جاری رکھے گی تاکہ سنگین ترین جرائم کے بے شمار متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔‘
عدالت نے اپنے 125 رکن ممالک سے ادارے کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مستقبل اب ان ریاستوں کے ہاتھوں میں ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آنے والی نسلیں اور بالخصوص مظالم کا شکار ہونے والے لوگ یہ ضرور پوچھیں گے کہ جب ان کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ادارہ زیرِ عتاب آیا تو دنیا نے کیا ردعمل دیا تھا۔‘
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بنیادی معاہدے ’روم اسٹیچیوٹ‘ کے دستخط کنندہ نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے پروگرام میں چوتھی تبدیلی، اب 11 اکتوبر کو صوابی پہنچیں گے؟
آئی سی سی کی جانب سے افغانستان میں امریکی افواج کے مبینہ اقدامات اور غزہ و فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف تحقیقات کے آغاز کے بعد سے امریکہاور آئی سی سی کے درمیان شدید تنازع جاری ہے۔
عالمی برادری فی الوقت واشنگٹن کے اس انتہائی قدم اور اس کے بین الاقوامی قانون پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

