اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی باتوں کے بیچ تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آیا ہے۔ 1973 کے آئین کے بعد صوبے میں اب تک دو بار گورنر راج نافذ ہوا، 1975 اور 1994 میں، اور دونوں مواقع پر مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اور دوسری بار بینظیر بھٹو کے دور میں۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کا اعلان صدرِ مملکت کرتے ہیں۔ 1975 میں صدر فضل الٰہی چوہدری اور 1994 میں فاروق لغاری تھے۔ موجودہ صدر آصف علی زرداری کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہ اس سے پہلے 2009 میں پنجاب اور 2013 میں بلوچستان میں گورنر راج/ایمرجنسی لگا چکے ہیں، اس لیے خیبر پختونخوا میں ایسا ہوا تو یہ ان کی تیسری بار ہوگی۔
حالیہ دنوں میں وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشت گردی اور سرحدی صورتِ حال کے پیشِ نظر گورنر راج پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے، جو دو ماہ کے لیے لگایا جا سکتا ہے اور حالات کے مطابق اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسے محض چہ مگوئیاں قرار دیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج "ناممکن” ہے اور یہ لوگ انہیں نااہل کرنا چاہتے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی ایک موقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ کبھی گورنر راج نہیں لگائیں گے۔

