آئی سی سی پر امریکی پابندیاں، دنیا بھر میں وسیع مخالفت؛ اسرائیل واحد حامی

icc 101026 d


نیویارک: امریکہ کی جانب سے جمعہ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر عائد وسیع پابندیوں کو قریبی اتحادیوں سمیت دنیا بھر میں مخالفت کا سامنا ہے۔ اس سے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیلی لیڈروں کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران بین الاقوامی انصاف پر سفارتی تقسیم واضح ہو گئی ہے۔
چھ یورپی ممالک، کنیڈا اور جاپان نے مشترکہ طور پر پابندیاں مسترد کر دیں، جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے الگ سے مذمت کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "یا تو آئی سی سی اپنے خطرات ختم کرے گی، یا ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے۔” یہ پیش رفت نومبر 2024ء میں نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ اور امریکی شہریوں پر عدالت کے دائرہ اختیار کی دیرینہ امریکی مخالفت کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں، جس کے 125 رکن ممالک ہیں۔
ڈنمارک، جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے کنیڈین اور جاپانی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ بیان میں پابندیوں سے سخت اختلاف کیا اور عدالت کی آزادی، غیر جانبداری اور سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ آٹھوں ممالک نے خبردار کیا کہ پابندیاں عدالت کے کام، عملے اور ان کے خاندانوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے بھی عدالت کی آزادی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی مخالفت کی۔ ڈچ وزیر اعظم روب جیٹن نے کہا کہ "ہم آئی سی سی کے دفاع کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوگا کریں گے۔” بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسیم پریوو نے پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عدالت اور اس کی حمایت کرنے والوں کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کا بلاکنگ اسٹیٹیوٹ فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔
یورپی کمیشن نے اعلان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ یونین عدالت کو کام جاری رکھنے کے قابل بنانے اور سنگل مارکیٹ میں یورپی آپریٹرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کو تیار ہے۔ کمیشن کے مطابق پابندیوں کے نفاذ سے قبل چھ ماہ کی مدت واشنگٹن سے بات چیت کا موقع دیتی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی کہا کہ یونین عدالت اور اس کے عملے کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
گوتریس نے ترجمان کے ذریعے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کی اجتماعی کوششوں کے لیے سنگین دھچکا ہے اور ممالک سے بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریاں نبھانے پر زور دیا۔
آئی سی سی نے پابندیوں کو قانون کی حکمرانی پر حملہ اور انصاف میں رکاوٹ قرار دیا۔ عدالت کی صدر ٹوموکو اکانے، جنہیں واشنگٹن اگست میں ذاتی طور پر نشانہ بنا چکا ہے، نے کہا کہ عدالت صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر آزادی اور غیر جانبداری سے کام جاری رکھے گی۔ عدالت نے رکن ممالک سے اپنے کردار کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل جمعہ تک ردعمل دینے والی حکومتوں میں پابندیوں کا خیرمقدم کرنے والا واحد ملک تھا۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ اور روبیو کی تعریف کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ "آئی سی سی کوئی عدالت نہیں، یہ ایک سیاسی ادارہ ہے۔”

متعلقہ پوسٹ