ٹرمپ کی مسلم امیدوار عبدل السید پر تنقید، نام بگاڑ کر پکارا؛ عبدل کا جوابی حملہ

st 11010 d


واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشی گن سے سینیٹ کے مسلم ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کو بار بار غلط نام سے مخاطب کرتے ہوئے انہیں جہادی اور انتہا پسند قرار دیا ہے، جبکہ عبدل السید نے اس رویے کو مسلمانوں اور ان کے مذہب کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عبدل السید کو بارہا ’’محمد‘‘ کہہ کر مخاطب کیا، حالانکہ ان کا اصل نام عبدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں صدر ہوں، میں انہیں جو چاہوں وہ نام دے سکتا ہوں‘‘ اور عبدل السید کو ’’انتہا پسند جہادی‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی عبدل السید کا نام غلط لکھا اور انہیں ’’جہادی جنونی‘‘، ’’انتہا پسند‘‘ اور ’’دہشت گردوں کا حامی‘‘ کہا۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشی گن کے عوام کے لیے موزوں امیدوار ہیں۔
41 سالہ ماہرِ وبائی امراض عبدل السید نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مائیک راجرز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر منتخب ہوئے تو وہ امریکہ کے پہلے مسلم سینیٹر ہوں گے۔
عبدل السید نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ان کا نام عبدل ہے، مگر صرف انہیں نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام اور مذہب کو استعمال کر کے عوام کی توجہ مہنگائی، ایندھن اور صحت کی دیکھ بھال جیسی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں حقیقت کا شعور نہیں، اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔‘‘

متعلقہ پوسٹ