ٹرمپ کے توانائی جنگ بندی کے اعلان پر زیلنسکی کا حیران رہ جانا

trump zelensky d


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین توانائی کے شعبے میں فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی شرائط یا تفصیلات نہیں بتائیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے اور اسے توڑا نہ جائے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ابتدا میں کہا کہ انہیں اس اعلان کی اطلاع پہلی بار میڈیا سے ملی، جس پر انہیں حیرت ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اگر روس توانائی کے شعبے پر حملے روک دے تو یوکرین بھی جنگ بندی کی حمایت کرے گا۔
ٹرمپ نے یوکرین سے روس کے تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ماسکو امریکہ اور عالمی منڈی کو ڈیزل فراہم کرنے سے متعلق حالیہ معاہدے پر عمل کر سکے گا، جبکہ یوکرین کا موقف ہے کہ یہ حملے روس کی جنگی آمدنی کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو پوتن کے ساتھ ڈیزل سپلائی کا معاہدہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے تحت روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور بعد ازاں مزید چار ملین ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس معاہدے میں روسی درآمدات پر پابندیوں میں عارضی نرمی شامل ہے، جس کی یورپ اور امریکہ میں تنقید ہو رہی ہے۔
زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی روس نے یوکرین کی توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رکھے اور صرف پیر کو چھ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یوکرین نے روس کی توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے اور امید ہے کہ ماسکو بھی ایسا ہی کرے گا۔
روس نے اب تک توانائی جنگ بندی کی تصدیق یا واضح حمایت نہیں کی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صرف اتنا کہا کہ رابطے جاری ہیں۔

متعلقہ پوسٹ