سی جے پی کے سوربھ داس اور آشو توش رانکا کو جیل بھیجا گیا، راہل گاندھی بولے

CJP leaders Detention


(بائیں)جنتر منتر پر ترنگے کے ساتھ سی جے پی کے آشو توش رانکا،(دائیں)عدالتی حراست میں سوربھ داس اور آشو توش رانکا۔تصویر بہ شکریہ: ابھجیت دیپکے

دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں آشو توش رانکا اور سوربھ داس کو جنتر منتر پر ’غیر مجاز داخلے‘ کے الزام میں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اپنے ہی ملک میں اپنا ہی جھنڈا لہرانا جرم کب سے ہو گیا؟

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کے رہنماؤں آشو توش رانکا اور سوربھ داس کو جنتر منتر پر غیر مجاز داخلے کے الزام میں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، یہ حکم ایک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی عدالت نے دیا ہے۔

واضح ہو کہ منگل کی صبح چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور جنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ ختم کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی جے پی کے رہنما چپ چاپ جنتر منتر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ وہاں انہوں نے ترنگا لہرا رہے تھے، جس کے بعد دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترنگا لہرانے پر نوجوانوں کو جیل بھیجنا بزدلی ہے۔

ایکس پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے گاندھی نے لکھا،’جنتر منتر پر کسی پرامن احتجاج کے دوران ترنگا لہرانا جرم نہیں ہے۔ اس کے لیے نوجوانوں کو جیل میں ڈالنا بزدلی ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا، ’طلبہ، نوجوان، صحافی، ’انڈیا‘اتحاد۔سب کے بینر الگ الگ ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے۔ تمام احتجاجی مظاہرے ایک ہیں؛شہری اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جنتر منتر ہندوستان کے لوگوں کا ہے۔ ہم اسے واپس لے کر رہیں گے۔‘

سی جے پی نے بھی اپنے رہنماؤں کی قید کو لے کر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے ایکس پر لکھا،’آشو اور سوربھ کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی غلطی؟ جنتر منتر پر ترنگا لہرانا۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کچھ اور ہمت دکھائیں۔ ’اگر اختلاف رائے کو کچلنے کے آپ کے ارادے اتنے ہی پختہ ہیں، تو ان بزدلانہ طریقوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہمت دکھائیں۔‘

ایک اور پوسٹ میں دیپکے نے لکھا،’سوربھ اور آشو جانتے تھے کہ انہیں جیل ہو سکتی ہے، اس کے باوجود وہ جنتر منتر گئے اور فخر کے ساتھ ترنگا لہرایا۔ انہوں نے پورے ملک کو دکھا دیا ہے کہ مودی جیسے بدمعاش کا سامنا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہےکہ کبھی جھکیں نہیں، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔‘

اپوزیشن کے کئی رہنما سی جے پی کی حمایت میں سامنے آئے

راہل گاندھی کے علاوہ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے سوربھ داس اور آشو توش رانکا کو جیل بھیجے جانے کی مذمت کی ہے۔

تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے سوال کیا کہ بی جے پی آخر کتنے نوجوانوں کی آواز دبا سکتی ہے!

انہوں نے لکھا،’یہ حکومت کتنے مظاہرین کو حراست میں لے سکتی ہے؟ بی جے پی کتنی نوجوان آوازوں کو خاموش کرا سکتی ہے؟ وہ جتنے زیادہ نوجوانوں کو جیل میں ڈالیں گے، اتنے ہی زیادہ عام شہری، جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، سڑکوں پر اتریں گے اور انہیں عوام کی اصل طاقت دکھائیں گے‘!

اسٹالن نے مزید لکھا کہ آشو توش اور سوربھ کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ان کی پارٹی انہیں قانونی مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے بھی سی جے پی رہنماؤں کو جیل بھیجے جانے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے لکھا،’کیا اپنے ہی ملک میں اپنا جھنڈا لہرانا جرم ہے؟ یہ پوری طرح سے بیہودگی ہے‘!

بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اس حراست کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا،’ہم نے اور ہم سے پہلے کی کئی نسلوں نے اپنے جمہوری حقوق کے لیے مضبوطی سے جدوجہد کی ہے۔ ہمیں یہ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ میں سی جے پی کے آشو توش اور سوربھ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ یہ وقت ہم سب کا ہے،  اپنی عظیم جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر لڑنے کاوعدہ کرنے اور کھڑے ہونے کا۔ یہ پوری نسل کو ڈرانے اور خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ یہ منظور نہیں  ہے۔‘

سی پی آئی کے جنرل سکریٹری کامریڈ ڈی راجہ نے سی جے پی رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا،’سی جے پی کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشو توش رانکا کو حراست میں لینا اور عدالتی حراست میں بھیجنا غیر جمہوری ہے۔ وہ بھی اس جگہ پر ’غیر مجاز داخلے‘کے الزام میں، جو صرف دو دن پہلے تک احتجاج کے کی طے جگہ تھی۔ یہ سراسر ہراسانی ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا،’عوام کے غصے سے ڈرکر حکومت احتجاج کو کچلنا اور اختلاف رائے کو دبانا چاہتی ہے۔ غیر جمہوری نظام کے خلاف احتجاج کرنا کب سے جرم ہو گیا؟ جنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ ختم کرنے کے فیصلے کو سیاسی اور قانونی طور پر چیلنج کیا جائے گا۔ اے آئی ایس ایف اور اے آئی وائی ایف نے کل جنتر منتر کو واپس حاصل کرنے کے لیے مارچ کیا تھا۔ ہم احتجاج کے اپنے حق اور احتجاج کے اپنے مقام کو واپس حاصل کرنے کے لیے جدوجہد تیز کریں گے۔ سوربھ داس اور آشو توش رانکا کو فوراً رہا کیا جانا چاہیے‘!

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ابھیشیک بنرجی نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’نام نہاد سب سے بڑے راشٹر وادی اب ہندوستانیوں کو اپنے ہی ملک میں ترنگا، پھیرانے اور لہرانے پر گرفتار کر رہے ہیں ، جو اب مرکزی حکومت کے مطابق امن و امان میں خلل ڈالنے جیسا عمل ہے۔ بی جے پی کے نئے’پاکستانیفائیڈ ہندوستان میں آپ کا استقبال ہے۔‘

شیو سینا(یو بی ٹی)کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے، این سی پی(ایس پی)کی رکن پارلیامنٹ سپریا سولے اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے بھی اس حراست کی مذمت کرتے ہوئے سی جے پی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ