واشنگٹن: امریکہ کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو سی این این، ایم ایس این بی سی اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔
جج ٹموتھی کیلی نے 13 اکتوبر کو عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ تینوں خبر رساں اداروں کے آئینی آزادیِ اظہار اور قانونی کارروائی کے حق سے متعلق دعووں میں کامیابی کے امکانات ہیں۔ یہ حکم مقدمے کے حتمی فیصلے تک نافذ رہے گا، سوائے اس کے کہ اپیل کی عدالت اسے تبدیل کر دے۔
عدالت نے کہا کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنے سے امریکی آئین کی پہلی اور پانچویں ترامیم کے تحت دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی کا امکان ہے۔ جج کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پابندی سے قبل صحافیوں کو واضح اطلاع یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا تھا۔
تنازع 18 ستمبر کو شروع ہوا تھا، جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ مسلسل ’’جعلی خبریں‘‘ نشر کرنے کے باعث مذکورہ اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں اداروں کے مجموعی طور پر 78 صحافی اس پابندی سے متاثر ہو سکتے تھے۔ انتظامیہ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں داخلہ صحافیوں کا مطلق حق نہیں بلکہ ایک خصوصی سہولت ہے، جبکہ میڈیا اداروں نے اسے رپورٹنگ سے اختلاف کی بنیاد پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
عدالت کا موجودہ حکم صرف متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس اور وائٹ ہاؤس تک رسائی سے متعلق ہے۔ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور انتظامیہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کا اختیار حاصل ہے۔

