نہا بورا رہا، ابھیجیت دیپکے کو جلد عدالت میں پیش کرے گی پولیس؛ سی جے پی نے ترنگا مارچ کو بتایا کامیاب

PTI10 17 2026 000014B scaled 1


آر کے پورم پولیس اسٹیشن سے رہا ہونے کے بعدہفتہ 17اکتوبر 2026کو پی ٹی آئی سے بات کرتی ہوئیں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا)کی صدر نہا بورا ۔ (پی ٹی آئی ویڈیو کا اسکرین گریب)

’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کے دوران حراست میں لی گئیں آئیسا کی صدر نہا بورا کو 17 اکتوبر کی صبح رہا کر دیا گیا۔ ان کے وکیلوں نے حراست کے دوران انہیں نہا سے ملنے نہیں دینے اور ٹھکانہ خفیہ رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس جلد عدالت میں پیش کرے گی۔

نئی دہلی:آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا)کی صدر نہا بورا کو 17 اکتوبر کی صبح رہا کر دیا گیا۔ ان کے وکیلوں نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس نے انہیں من مانے طریقے سے حراست میں لیا، وکیلوں سے ملنے  نہیں دیا اور ان کی حراست کے دوران ان کی جگہ کئی بار تبدیل کی، لیکن اس کی جانکاری بھی نہیں دی۔

وہیں، کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے بانی ابھیجیت دیپکے کو جلد ہی دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیے جانے کی جانکاری ملی ہے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ دیپکے کو بی این ایس ایس کی دفعہ 126/170 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کو 16 اکتوبر کو دہلی میں ’لہرا دو ترنگا‘مارچ کے دوران پولیس کارروائی کےبیچ حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی تلاش میں جمعہ کی رات اہل خانہ، دوستوں، وکیلوں اور ساتھیوں کو ایک تھانے سے دوسرے تھانے بھٹکنا پڑا۔ اس دوران سینٹرل دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور خبروں کے مطابق، کم از کم 150 دیگر لوگوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

سنیچر کی صبح 6 بج کر 51منٹ پر نہا بورا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے اپنی رہائی کے بارے میں بتایا۔ اس سے کچھ گھنٹے پہلے، آدھی رات کے آس پاس آئیسا نے بتایا تھا کہ نہا بورا کو آر کے پورم پولیس اسٹیشن میں ڈھونڈ لیا گی اہے۔ تنظیم کے مطابق، حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس نے انہیں پانچ گھنٹے تک سڑک پر کھڑی ایک حراستی وین میں رکھا تھا۔ اس دوران وہ وین میں حراست میں لی گئی واحد خاتون تھیں۔

وکیلوں نے لگایا حراست کی جگہ خفیہ رکھنے اور نہیں ملنے دینے کا الزام

نہا بورا کے وکیل سوپنتھ سنہا نے دہلی پولیس کے سینئر افسران کو ایک ہنگامی عرضداشت بھیج کر ان کی حراست اور ان کے ٹھکانے کی جانکاری نہ دیے جانے پر سوال اٹھائے تھے۔ عرضداشت کے مطابق، بورا کو پرامن مظاہرے میں شامل ہونے کی کوشش کے دوران منڈی ہاؤس میٹرو اسٹیشن کے پاس حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پالم میں واقع اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے احاطے میں لے جایا گیا۔

بورا کے پاس حراست میں لیے جانے کے وقت ان کا موبائل فون نہیں تھا۔ جب ان کے وکیل اور ساتھی پالم پہنچے اور ان سے ملنے کا مطالبہ کیا تو پولیس نے انہیں ملنے نہیں دیا۔ وکیلوں نے قانونی نمائندگی کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے ملاقات پر اصرار کیا، لیکن الزام ہے کہ پولیس بورا کو وہاں سے کسی دوسری جگہ لے گئی اور اس جگہ کا نام بھی نہیں بتایا۔

PTI10 16 2026 000279B scaled 1 480x687 1
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے منڈی ہاؤس میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)گیانیش کمار کے خلاف مظاہرے کے دوران پولیس نے آئیسا کی صدر نہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین ایس آئی آرمیں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔پی ٹی آئی فوٹو/روی چودھری

سنہا نے اپنے خط میں کہا کہ بار بار درخواست کیے جانے کے باوجود پولیس نے نہ تو بورا کے ٹھکانے کی اطلاع دی اور نہ ہی ان کے وکیلوں کو کوئی جانکاری دی۔ انہوں نے افسران سے فوراً مداخلت کرنے، بورا کو ان کے وکیلوں سے ملنے دینے اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ خط میں حراست کے لیے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ حراست جاری رکھنا، قانونی نمائندوں سے ملنے سے روکنا اور ان کے ٹھکانے کو خفیہ رکھنا بورا کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ خط میں سپریم کورٹ کے 11اکتوبر 2026کے شیلندر منی ترپاٹھی بنام گووند موہن معاملے میں دی گئی ہدایات کا بھی حوالہ دیا گیا۔

سی جے پی کی لیگل ٹیم کی چیف رتنا سنگھ نے بھی نہا بورا اور ابھیجیت دیپکے کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

دیپکے کی حراست کو پولیس نے ’احتیاطی‘قرار دیا

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو جمعہ کو ان کی رہائش کے باہر اس وقت حراست میں لیا گیا، جب وہ مظاہرے کے مقام کی جانب جا رہے تھے۔ انہیں حراست میں لیے جانے کے کئی گھنٹے بعد تک پولیس نے ان کے اہل خانہ یا قانونی ٹیم کو ان کے ٹھکانے کی جانکاری نہیں دی تھی۔

دیپکے کی گرفتاری کے ایک ویڈیو میں پولیس افسران انہیں یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں ’احتیاطی حراست‘ میں لیا جا رہا ہے۔ اس سے ایک رات پہلے دیپکے نے الزام لگایا تھا کہ پولیس اہلکار اور انٹلی جنس بیورو (آئی بی)کے افسران ان کا پیچھا کر رہے ہیں اورلگاتار نظر رکھ رہے ہیں۔

سی جے پی نے کہا کہ وہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ جمعہ کو حراست میں لیے جانے کے بعد دیپکے کو کہاں لے جایا گیا۔ ان کی رہائی کی مانگ کولے کر ملک بھر سے اپیلیں موصول  ہونے کی بات بھی تنظیم  نے کہی۔

دیپکے کی حراست کے معاملے میں سی جے پی نے پولیس کے رول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا اور عدالتی حراست میں بھیجا گیا، جبکہ اب ان کی رہائی بھی پولیس کے ذریعے ہی ہونی ہے۔ تنظیم نے اس صورتحال پر طنز کرتے ہوئے دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔

سی جے پی نے مارچ کو بتایا کامیاب ، دیپکے کی رہائی کا مطالبہ

جمعہ کی کارروائی کے بعد جاری بیان میں سی جے پی نے ’لہرا دو ترنگا‘مظاہرے کو کامیاب قرار دیا۔ تنظیم کا دعویٰ تھا کہ حفاظتی پابندیوں اور گرفتاریوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ کناٹ پلیس پہنچے اور قومی پرچم لے کر مظاہرے میں شریک ہوئے۔

تنظیم نے کہا کہ مظاہرے میں لوگوں کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری عوام کو الیکشن کمیشن کے کام کاج، تقرری اور طرز عمل میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے سے نہیں روک سکتی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ