
(24نیوز)یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں بیلسٹک میزائلز، ڈرونز، جدید فضائی نظاموں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب جدید فضائی دفاعی نظام اور مضبوط فضائی قوت کے ذریعے اپنی اہم تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے، حوثیوں کے پاس فلسطین 2 بیلسٹک میزائل موجود ہے جس کی مار 2,150 کلو میٹر، رفتار تقریباً 19 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ اور دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت 500 کلو گرام ہے۔
حوثی اسے آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار والا میزائل قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح ذوالفقار یا برکان 3 میزائل کی مار 1,200 کلو میٹر سے زیادہ، رفتار تقریباً 6 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ اور دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت 250 کلو گرام ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حوثی رجوم ڈرون بھی استعمال کرتے ہیں جس کی پرواز کی حد 10 سے 30 کلو میٹر اور رفتار 200 سے 250 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، یہ 6 مارٹر گولے لے جا سکتا ہے،صماد 1 نگرانی ڈرون کی پرواز کی حد 500 کلو میٹر اور رفتار 200 سے 250 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اسے دھماکا خیز مواد لے جانے کے لیے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا بڑا منصوبہ سامنے آگیا
ادھر سعودی عرب امریکی ساختہ ایف 15 لڑاکا طیارے استعمال کرتا ہے جن کی رفتار تقریباً 3 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، یہ طیارے 940 گولیوں والی خودکار توپ سے لیس ہیں۔
یورپی ٹائفون لڑاکا طیاروں کی رفتار 2,495 کلو میٹر فی گھنٹہ اور پرواز کی حد تقریباً 3,790 کلو میٹر ہے، یہ فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے 2025ء میں دفاع پر 83.2 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جس کے باعث وہ دنیا میں آٹھویں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔سعودی دفاعی نظام میں امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل نظام نمایاں ہیں۔
دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا ہے، فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ مشرقی خطے پر ایک ڈرون بھی تباہ کر دیا۔
علاوہ ازیں ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں ممکنہ خطرے کا الرٹ کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔
یاد رہے کہ سعودی اتحادی نے کل بھی نجران اور ریاض کی طرف داغے گئے حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے تھے۔

