جرمنی کی ایک نئی نوجوان تحریک نے جمعرات کو آن لائن کھلا خط شائع کیا جس میں چانسلر فریڈرک مرز سے مطالبات پیش کئے گئے۔ خط میں کہا گیا کہ حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسیاں نوجوانوں سے امید چھین رہی ہیں اور ان کا صبر ختم ہو چکا ہے۔ تحریک ۳۱ اکتوبر کو ۲۰ سے زائد شہروں میں پرامن مظاہروں کا اعلان کر چکی ہے۔
ہائی اسکول اور یونیورسٹی طلبہ، اپرنٹس اور نوجوان پیشہ ور افراد پر مشتمل یہ گروپ برلن، ہیمبرگ، میونخ، فرینکفرٹ اور کولون میں بڑے احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ ۲۷ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوں گے۔ منتظمین کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد آن لائن رجسٹر ہو چکے ہیں۔
مطالبات میں سماجی اخراجات میں کٹوتیاں ختم کر کے اسکولوں کے لئے زیادہ فنڈنگ اور سستی زندگی، بوجjh کی منصفانہ تقسیم، فوجی بھرتی بحال کرنے کے منصوبوں کی مخالفت، نگرانی بڑھانے کے بجائے بنیادی حقوق کا مضبوط تحفظ، اور سنجیدہ موسمیاتی اقدامات شامل ہیں۔ گروپ نے حکومت پر جنگوں اور تنازعات سے متعلق نوجوانوں کے خدشات نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔

