کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ جمع کرا دیا ہے۔
ویٹیکن نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوپ شہریوں کی جانب سے جمہوری عمل میں حصہ لینے کو اپنا حق اور ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی شہریت رکھنے والے پوپ لیو نے ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں اپنا میل اِن بیلٹ جمع کرایا ہے۔ اس طرح وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔
ویٹیکن کے ہولی سی پریس آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ لیو شہریوں کے جمہوری عمل میں شرکت کے حق اور فرض پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ بیان کے مطابق انہوں نے اپنی سابقہ روایت برقرار رکھتے ہوئے شکاگو میں ووٹ جمع کرایا۔
پوپ لیو چہاردہم 2025 میں کیتھولک چرچ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ ہے اور وہ امریکا کے شہر شکاگو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ امریکی شہریت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پوپ لیو اس سے قبل بھی امریکا میں رہائش کے دوران مختلف انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ویٹیکن نے یہ بھی بتایا کہ پیرو میں قیام کے دوران بھی انہوں نے اہل ہونے کی صورت میں انتخابی عمل میں حصہ لیا تھا۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے ساتھ سلوک سمیت مختلف معاملات پر پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ویٹیکن نے یہ نہیں بتایا کہ پوپ نے امریکی انتخابات میں کن امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔

