واشنگٹن — امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے صرف چند دن پہلے قومی سروے میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔ ریئل کلیئر پولنگ کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹس کو 51.4 فیصد جبکہ ریپبلکنز کو 43.2 فیصد حمایت مل رہی ہے، یعنی ڈیموکریٹس کی برتری 8.2 فیصد پوائنٹس ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابتدا میں کنساس اور آئیووا میں طے شدہ دو انتخابی ریلیاں منسوخ کر دی تھیں اور اعلان کیا تھا کہ وہ تقریباً 20 ریاستوں میں ٹیلی فون ریلیوں کے ذریعے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں گے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ ووٹرز تک پہنچنے کے لیے کیا گیا۔
تاہم اگلے دن ٹرمپ نے فیصلہ بدل کر دونوں ریلیاں بحال کر دیں۔ اب وہ اتوار کے دن آئیووا کے ڈیبوک اور کنساس کے سالینا میں ذاتی طور پر خطاب کریں گے، جبکہ ٹیلی ریلیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
سروے بتاتے ہیں کہ کنساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن سے پیچھے ہیں، جبکہ آئیووا میں ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹورک کے درمیان مقابلہ برابر کا ہے۔
دوسری جانب الاسکا میں سینیٹ الیکشن کے نتائج پر قانونی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے کہ اگر ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیون ہار جائیں تو الیکشن کی تصدیق روکی جائے، کیونکہ بیلٹ پر اسی نام کے دوسرے امیدوار کی موجودگی ووٹرز میں الجھن پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الاسکا کی رینکڈ چوائس ووٹنگ اور ڈاک سے موصول ہونے والے ووٹوں کی وجہ سے نتائج کا اعلان دو ہفتے تک مؤخر ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت، معاشی مسائل اور ڈیموکریٹک ووٹرز میں زیادہ جوش ریپبلکنز کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ وسکونسن میں مارکویٹ لا اسکول کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 37 فیصد رہی، جبکہ 61 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

