چین: کبھی یومیہ 1.20 ڈالر کمانے والی ژو چنفے ملک کی امیر ترین خاتون بن گئیں

rich d 1


بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک): اسمارٹ فون اسکرین کا شیشہ بنانے والی کمپنی Lens Technology کی بانی ژو چنفے ایک بار پھر چین کی امیر ترین خاتون قرار پائی ہیں۔ ہورون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 28 اکتوبر کو جاری کردہ "Hurun Richest Women in China 2026” فہرست میں ان کی دولت 127 ارب یوآن (تقریباً 18.9 ارب ڈالر) بتائی گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں اس میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔
56 سالہ ژو چنفے 2015 میں بھی پہلے نمبر پر آئی تھیں، جب ان کی کمپنی شینزن اسٹاک ایکسچینج میں درج ہوئی۔ دوسرے نمبر پر ہان سُو فارماسیوٹیکل کی ژونگ ہوئی جُوآن ہیں، جن کی دولت 124 ارب یوآن (تقریباً 18.5 ارب ڈالر) ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف 3 ارب یوآن کا ہے۔
ژو چنفے 1970 میں صوبہ ہونان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں اور نوعمری میں اسکول چھوڑ کر شینزن آ گئیں۔ وہاں گھڑیوں کے شیشے بنانے والی فیکٹری میں انہیں یومیہ تقریباً 1.20 ڈالر ملتے تھے۔ 1993 میں 23 برس کی عمر میں انہوں نے شیشے کی پروسیسنگ کی اپنی ورکشاپ قائم کی۔ ان کی کمپنی نے 2007 میں ایپل کے ابتدائی آئی فون ماڈلز کے لیے شیشے کے کور فراہم کرنا شروع کیے۔ مارچ 2015 میں کمپنی کی فہرست بندی ہوئی۔ 2018 میں امریکہ۔چین تجارتی کشیدگی کے باعث حصص گرے، تاہم کمپنی نے الیکٹرک گاڑیوں کے ڈسپلے، AI ہارڈویئر اور روبوٹکس میں توسیع کی اور جولائی 2025 میں ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں بھی درج ہوئی۔
ہورون کے مطابق تازہ کامیابی کے پیچھے AI ہارڈویئر، اسمارٹ کار ڈسپلے اور اسمارٹ گلاسز کی بڑھتی مانگ ہے۔ مئی 2026 میں بیجنگ میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں دی گئی سرکاری ضیافت میں انہیں ٹم کُک اور ایلون مسک کے درمیان بٹھایا گیا تھا۔
فہرست کی 50 امیر ترین خواتین کی مجموعی دولت 1.93 کھرب یوآن ہے۔ ان میں سے 65 فیصد نے دولت خود کاروبار سے بنائی، جبکہ 35 فیصد کو وراثت میں ملی۔

متعلقہ پوسٹ