تہران — ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو واضح خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی نیا فوجی یا دہشت گردانہ حملہ ہوا تو جوابی کارروائی فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد ہوگی۔ انہوں نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہدایت دی کہ امریکی و اسرائیلی اہداف کی فہرست تازہ کی جائے اور دشمن کے تمام قابلِ نشانہ اثاثے ایرانی مسلح افواج کی پہنچ میں رکھے جائیں۔
خامنہ ای کے مطابق اگر دشمن دوبارہ حملہ کرے تو جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور عوام طے کریں گے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ پیغام ’’زیادہ سے زیادہ رکاوٹ‘‘ کی حکمت عملی کے تحت دیا گیا ہے، جس کا مقصد دشمن کو نئے حملے سے باز رکھنا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ کارروائی کی تو جنگ کا دائرہ کہیں وسیع علاقے تک پھیل سکتا ہے۔ دریں اثنا، قطر کی ثالثی میں تہران اور دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں؛ تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ یا جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم نکتہ ہے، کیونکہ اس سے عالمی توانائی کی رسد اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ نئی کارروائی کا اشارہ دیا ہے، لیکن امریکی حکام نے کہا ہے کہ سفارتی حل کی صورت میں وہ اس پر غور کرنے کو تیار ہیں۔

