واشنگٹن: امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں اس کے ارکان کی حمایت یافتہ 234 سے زیادہ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ تنظیم نے 4 نومبر کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کئی دیگر حلقوں میں گنتی اور نتائج کا اعلان ابھی باقی تھا۔ اس نے ڈیموکریٹک رہنماؤں چک شومر اور حکیم جیفریز کو بھی مبارک باد دی، جن کے جنوری 2027 میں نئی کانگریس کے حلف کے بعد بالترتیب سینیٹ میں اکثریتی رہنما اور ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر بننے کا امکان ہے، تاہم دونوں عہدوں کے لیے جماعتی انتخابی عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
تنظیم نے کہا کہ وہ آئندہ بھی دونوں جماعتوں کے ایسے امیدواروں کی حمایت جاری رکھے گی جو امریکہ اور اسرائیل کی مضبوط شراکت داری کے حامی ہیں۔ تاہم دعوے کے الفاظ پر غور ضروری ہے: تنظیم نے یہ نہیں کہا کہ اس نے خود ان تمام امیدواروں کی مہم چلائی یا انہیں نامزد کیا، بلکہ انہیں اپنے ارکان کے حمایت یافتہ امیدوار قرار دیا۔ بیان میں کامیاب امیدواروں کی مکمل فہرست یا دونوں جماعتوں کی الگ الگ تعداد بھی نہیں دی گئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اے آئی پی اے سی کی سپر پی اے سی "یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ” اور دیگر متعلقہ کمیٹیوں نے مجموعی طور پر 1.84 ملین ڈالر خرچ کیے، جن میں سے 3.55 ملین ڈالر ان حلقوں میں صرف ہوئے جہاں ان کے پسندیدہ امیدوار کامیاب نہ ہو سکے۔ (رپورٹ میں دی گئی یہ دونوں رقوم آپس میں مطابقت نہیں رکھتیں، اس لیے اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔)
مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدل السید نے ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی۔ السید اسرائیل کو غیر مشروط امریکی فوجی امداد کے ناقد رہے ہیں، جبکہ اے آئی پی اے سی سے وابستہ حلقوں نے ہیلی اسٹیونز کی حمایت کی تھی جو پارٹی کے اندرونی انتخاب میں ہار گئی تھیں۔ مین میں ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ہرایا۔ اے آئی پی اے سی کو اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور انتخابی سیاست میں اپنے کردار پر تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ تنظیم اور اس کے حامی قریبی تعلقات کو دونوں ملکوں کے مفاد میں قرار دیتے ہیں۔

